مولانا شیخ ادریس ٹارگٹ کلنگ کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں تفتیشی اداروں نے ملزمان کی بڑی حد تک نشاندہی کے لیے 30 گھنٹے سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے جبکہ ملزماں کا سراغ بھی لگا لیا گیا ہے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی مشترکہ ٹیمیں اس کیس پر مسلسل کام کر رہی ہیں۔
معروف عالم دین مولانا شیخ ادریس کے قتل کے واقعے کی تحقیقات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اہم شواہد ملے ہیں جن کی بنیاد پر مشتبہ افراد کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔ حاصل کی گئی فوٹیجز میں صرف پشاور ہی نہیں بلکہ نوشہرہ اور چارسدہ کے مختلف مقامات کی ریکارڈنگ بھی شامل ہے جس کے ذریعے ملزمان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور متعلقہ اداروں کی تکنیکی معاونت بھی حاصل کی جا رہی ہے جن میں نادرا کا ڈیٹا بیس بھی شامل ہے تاکہ مشکوک افراد کی شناخت ممکن بنائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیمیں مولانا شیخ ادریس کی گزشتہ 15 دن کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ بھی اکٹھا کر رہی ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا ان کی باقاعدہ ریکی کی گئی تھی یا نہیں۔ اس سلسلے میں اب تک 40 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے مشکوک افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کی روشنی میں بہت جلد اہم گرفتاریاں متوقع ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کے مطابق اس واقعے کے پیچھے موجود محرکات، منصوبہ بندی اور ممکنہ سہولت کاروں کو بے نقاب کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، اور کیس کو جلد از جلد انجام تک پہنچانے کا عزم کیا گیا ہے۔