گھرکا قرض لینے والوں کیلئے خوشخبری، شرائط نرم کرنے کی تیاری

گھرکا قرض لینے والوں کیلئے خوشخبری، شرائط نرم کرنے کی تیاری

حکومت نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت کم آمدنی اور متوسط طبقے کیلئے گھروں کے قرضوں کے حصول کو مزید آسان بنانے پر غور شروع کر دیا ہے جبکہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات کی روشنی میں اسٹیٹ بینک، بینکوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت جاری ہے۔

 حکومت خاص طور پر ڈاؤن پیمنٹ دستاویزی تقاضوں اقساط اور قرض کے حصول کے طریقہ کار میں مزید آسانیاں پیدا کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف بینکوں اور مالیاتی اداروں سے مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک بھی ممکنہ ریلیف پیکیج پر غور کر رہا ہے۔

یہ پیش رفت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے حالیہ اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے جس میں وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کو عام شہریوں خصوصاً کم آمدنی والے خاندانوں کیلئے مزید مؤثر اور قابلِ رسائی بنانے پر زور دیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا جس میں وزارت خزانہ، وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور وزارت قانون و انصاف کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز خطرے میں؟ عرب ممالک نے متبادل راستہ ڈھونڈ لیا، سامان گوادر پورٹ منتقل ہونا شروع

چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سستی رہائش کی سہولت حقیقی معنوں میں مستحق اور کم آمدنی والے طبقے تک پہنچنی چاہیے، جس کیلئے شفاف، آسان اور جامع نظام ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے قانونی اور ریکوری نظام کو بھی مؤثر بنانا ہوگا۔

وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام ایک سبسڈی پر مبنی اسکیم ہے جس کا بنیادی مقصد کم اور متوسط طبقے کو ذاتی گھر کی سہولت فراہم کرنا اور تعمیراتی صنعت کو فروغ دینا ہے۔ یہ منصوبہ اگست 2025 میں منظور کیا گیا تھا جبکہ مارچ 2026 میں اس میں مزید بہتری کیلئے نظرثانی بھی کی گئی۔

حکام کے مطابق اسکیم کے تحت پہلی بار گھر خریدنے والے افراد کو ایک کروڑ روپے تک فنانسنگ فراہم کی جا رہی ہے۔ اس قرض پر صرف 5 فیصد مقررہ مارک اپ لیا جائے گا جبکہ ادائیگی کی مدت 20 سال رکھی گئی ہے۔ پروگرام کے تحت مجموعی گھر کی قیمت کا 90 فیصد قرض فراہم کیا جائے گا جبکہ 10 فیصد رقم درخواست گزار کو خود ادا کرنا ہوگی۔

اسکیم سے فائدہ اٹھانے کیلئے درخواست گزار کا پہلی مرتبہ گھر خریدنے والا ہونا ضروری ہے جبکہ اس کی آمدن اور مالی حیثیت بھی بینک کی شرائط کے مطابق جانچی جاتی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس پروگرام کا اصل فوکس کم اور متوسط آمدنی والے خاندان ہیں جو بڑھتی مہنگائی اور جائیداد کی بلند قیمتوں کے باعث اپنا گھر بنانے سے محروم ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ 30 اپریل 2026 تک پروگرام کے تحت 25 ہزار 304 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 8 ہزار 990 درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں۔ منظور شدہ فنانسنگ کا مجموعی حجم 37 ارب 15 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ اب تک ایک ہزار 845 مستحق افراد کو 5 ارب روپے سے زائد رقم جاری کی جا چکی ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کا شعبہ اب بھی انتہائی محدود ہے اور یہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا صرف 0.3 فیصد ہے۔ حکومت نے آئندہ چار برسوں میں 5 لاکھ گھروں کی فنانسنگ کا ہدف مقرر کیا ہے جس کیلئے تقریباً 3 اعشاریہ 2 کھرب روپے درکار ہوں گے۔

editor

Related Articles