ایران سے متعلق امریکا فیصلہ کن موڑ پر، آج بڑا اعلان متوقع

ایران سے متعلق امریکا فیصلہ کن موڑ پر، آج بڑا اعلان متوقع

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی تعطل کا شکار سفارتی رابطوں اور خطے میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر اپنی قومی سلامتی ٹیم کا انتہائی اہم اجلاس آج طلب کر لیا ہے جسے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔

واشنگٹن میں آج ہونے والے اس اجلاس میں یہ طے کیے جانے کا امکان ہے کہ امریکا ایران کے خلاف عسکری کارروائی کی جانب بڑھتا ہے یا پھر مذاکرات اور سفارتی عمل کو ایک اور موقع دیا جائے گا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں محدود فوجی کارروائی؎ آبنائے ہرمز میں بحری نگرانی کے مشن کی بحالی ایران کے حساس اہداف پر ممکنہ حملوں اور سفارتی دباؤ بڑھانے سمیت مختلف آپشنز زیر غور آئیں گے۔

امریکی حکام کے مطابق حالیہ مذاکرات کسی واضح نتیجے تک نہ پہنچنے کے بعد واشنگٹن میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر خاطر خواہ لچک دکھانے کیلئے تیار نہیں جس کے باعث امریکی انتظامیہ نئی حکمت عملی مرتب کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز خطرے میں؟ عرب ممالک نے متبادل راستہ ڈھونڈ لیا، سامان گوادر پورٹ منتقل ہونا شروع

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ بظاہر کسی بڑے جنگی تصادم سے گریز چاہتے ہیں اور وہ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کر سکے تاہم امریکی مطالبات مسترد ہونے کے بعد عسکری آپشنز نے دوبارہ اہمیت حاصل کر لی ہے۔

اہم اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، وائٹ ہاؤس ایلچی اسٹیو وٹکوف اور اعلیٰ فوجی حکام شریک ہوں گے۔

امریکی ذرائع کے مطابق زیر غور تجاویز میں آبنائے ہرمز میں فوجی نگرانی بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایران کے ان مقامات پر کارروائی کی آپشن بھی شامل ہے جن کی نشاندہی پہلے ہی کی جا چکی ہے لیکن اب تک حملے نہیں کیے گئے۔

دوسری جانب اسرائیل بھی امریکا پر دباؤ بڑھا رہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر کو غیر مؤثر بنانے کیلئے خصوصی آپریشن پر غور کیا جائے تاہم امریکی صدر اس آپشن کے ممکنہ خطرات اور پورے خطے میں جنگ پھیلنے کے خدشات کے باعث محتاط دکھائی دیتے ہیں۔

آج کا اجلاس نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کا رخ متعین کر سکتا ہے۔ اگر امریکا عسکری راستہ اختیار کرتا ہے تو خطے میں وسیع جنگ، تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جبکہ مذاکرات کو موقع دینے کی صورت میں کشیدگی کم ہونے اور سفارتی حل کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔

 ایران سے متعلق امریکی فیصلوں پر صدر ٹرمپ کے متوقع دورہ چین کے ممکنہ اثرات کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ واشنگٹن کسی بڑے بحران سے پہلے عالمی سفارتی توازن اور بڑی طاقتوں کے ردعمل کو بھی مدنظر رکھنا چاہتا ہے۔

editor

Related Articles