پاکستانیوں کی لاٹری نکل آئی، آسٹریلیا میں مستقل رہائش اور نوکری حاصل کرنے کا سنہری موقع

پاکستانیوں کی لاٹری نکل آئی، آسٹریلیا میں مستقل رہائش اور نوکری حاصل کرنے کا سنہری موقع

حکومتِ پاکستان کے ادارے ’بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ‘ نے پاکستانی پیشہ ور افراد کے لیے آسٹریلیا میں مستقل رہائش (پی آر) اور روزگار کے حصول کے ایک بڑے موقع کا اعلان کیا ہے۔

جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اس خصوصی اسکیم کے تحت اہل امیدوار آسٹریلوی آجر (ایمپلائر) کی نامزدگی پر مستقل ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ پروگرام خاص طور پر ان افراد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو اپنے متعلقہ شعبے میں بہترین فنی مہارت، وسیع تجربہ اور پیشہ ورانہ قابلیت رکھتے ہیں۔ اسکیم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں صحت، تعلیم اور علاقائی علاقوں (ریجنل ایریاز) میں کام کرنے والے افراد کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانیوں کے لیے سنہری موقع، ملازمت بھی، مستقل رہائش بھی، آسٹریلیا کا نیا ویزا متعارف

آسٹریلوی وزارتِ داخلہ کا مقصد اس پروگرام کے ذریعے اپنی ملکی معیشت کو سہارا دینا اور ہنر مند افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ بیورو نے واضح کیا ہے کہ امیدواروں کے لیے کسی مستند آسٹریلوی کمپنی سے اسپانسرشپ حاصل کرنا لازمی ہوگا، جس کے بعد وہ مستقل رہائش کے حقدار قرار پا سکیں گے۔

آسٹریلیا کا امیگریشن نظام دنیا کے شفاف ترین اور ’پوائنٹس بیسڈ‘ نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ آسٹریلیا میں اس وقت آئی ٹی ماہرین، سول اور مکینیکل انجینئرز، نرسز، ڈاکٹرز اور اساتذہ کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے ان شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کے ویزا لگنے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔

اسے عام طور پر ’ایمپلائر نامینیشن اسکیم‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں آجر حکومت کو اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ اسے مقامی سطح پر مطلوبہ ہنر مند نہیں ملا، لہٰذا وہ بیرونِ ملک سے فرد کو بلا رہا ہے۔

سڈنی اور میلبورن جیسے بڑے شہروں کے بجائے دور دراز علاقوں (ریجنل ایریاز) کا انتخاب کرنے والے امیدواروں کو ویزا پروسیسنگ میں اضافی پوائنٹس اور تیزی فراہم کی جاتی ہے۔

ہنر مند افرادی قوت کے لیے نئی راہیں

یہ اسکیم پاکستانی نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کے لیے کئی لحاظ سے اہم ہے، اس ویزا کے ذریعے نہ صرف افراد کی اپنی زندگی بدلتی ہے بلکہ یہ پاکستان کے لیے زرمبادلہ (ریمٹنس) کا ایک مستقل ذریعہ بھی بنتا ہے۔

دیگر ورک ویزوں کے برعکس، یہ ’ایمپلائر نامینیٹڈ‘ ویزا اکثر براہِ راست یا بہت جلد مستقل رہائش (پی آر) کی طرف لے جاتا ہے، جو کہ آسٹریلوی شہریت کے حصول کا پہلا قدم ہے۔

آسٹریلیا کا صحت اور تدریس کے شعبوں کو ترجیح دینا ظاہر کرتا ہے کہ وہ صرف ’لیبر‘ نہیں بلکہ ’پروفیشنلز‘ کی تلاش میں ہے۔ پاکستانی ڈاکٹرز اور اساتذہ کے لیے یہ دنیا کے بہترین انفراسٹرکچر میں کام کرنے کا موقع ہے۔

بیورو آف امیگریشن کی جانب سے سرکاری ویب سائٹس کا حوالہ دینا اس بات کی نشاندہی ہے کہ امیدواروں کو ایجنٹوں کے دھوکے میں آنے کے بجائے براہِ راست مستند ذرائع استعمال کرنے چاہئیں۔

درخواست کے لیے اہم روابط

بیورو آف امیگریشن پاکستانwww.beoe.gov.pk ، تازہ ترین معیار اور فارمز کے لیے آفیشل پورٹل وزٹ کریں۔ پاسپورٹ، تعلیمی اسناد، تجربہ سرٹیفکیٹ اور انگلش لینگویج ٹیسٹ (آئی ایل ٹی ایس یا پی ٹی ای)۔

Related Articles