لبنان، اسرائیل براہ راست مذاکرات کے تیسرے دور کا واشنگٹن میں آغاز

لبنان، اسرائیل براہ راست مذاکرات کے تیسرے دور کا واشنگٹن میں آغاز

لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کا تیسرا دور امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں شروع ہو گیا ہے۔

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنگ بندی معاہدے کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیلی حملے اور حزب اللہ کی جوابی کارروائیاں مکمل طور پر رکی نہیں ہیں۔

مذاکرات کا مقصد نئے جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کرنا ہے، اس لیے اس میں کئی پیچیدہ امور بھی زیر بحث ہیں جن میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا اور حزب اللہ کے ہتھیاروں کے معاملے پر بات چیت شامل ہے۔

اسرائیل اور لبنان کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات موجود نہیں، اسی لیے یہ مذاکرات ایک حساس سفارتی عمل تصور کیے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک تاریخی پیش رفت کی امید ہے ،  یاد رہے اس دوران اسرائیل لبنان پر مہلک حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کیلئے اس کی افواج نے جنوب کے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :لبنان پر اسرائیلی جارحیت جاری ، اقوام متحدہ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

لبنان جنگ بندی کی توثیق اور اپنی سرزمین سے اسرائیل کے انخلاء چاہتا ہے،  تل ابیب حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کی ضمانت چاہتا ہے،  حزب اللہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کو مسترد کرتی اور کہتی ہے کہ اس کا اسلحہ اندرونی معاملہ ہے اور مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔

واضح رہے لبنان اور اسرائیل نے گزشتہ ماہ اپریل 2026 واشنگٹن میں سفیروں کی سطح پر دو سابقہ دور مکمل کیے تھے ، جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے لبنان پر اسرائیلی حملوں میں تیزی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا ۔

editor

Related Articles