موریطانیہ کے صحارا ریگستان میں موجود ایک دیوہیکل قدرتی ساخت، جسے ’آئی آف دی صحارا‘ کہا جاتا ہے، ایک بار پھر سائنسی دنیا میں توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
یہ حیرت انگیز ساخت تقریباً 40 کلومیٹر کے قطر پر پھیلی ہوئی ہے اور خلا سے دیکھنے پر ایک بڑی آنکھ جیسی دکھائی دیتی ہے، جس نے برسوں تک اس کی اصل کے بارے میں مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔
ابتدا میں اسے کسی الکا کے ٹکرانے یا آتش فشانی عمل کا نتیجہ سمجھا جاتا رہا، تاہم ماہرین نے دونوں نظریات کو مسترد کر دیا ہے۔حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق یہ ساخت دراصل ایک قدیم ارضیاتی گنبد ہے جو لاکھوں سال پہلے زمینی پرتوں کی حرکت کے باعث اوپر ابھرا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ ہوا اور کبھی کبھار پانی کے کٹاؤ نے اس گنبد کو آہستہ آہستہ گھسا دیا۔ نرم چٹانیں زیادہ تیزی سے ختم ہو گئیں جبکہ سخت تہیں باقی رہ گئیں، جس کے نتیجے میں گول دائروں کی شکل میں منفرد حلقے بن گئے۔
یہی حلقے اس ساخت کو ایک آنکھ جیسا منفرد اور غیر معمولی منظر دیتے ہیں، جو دور سے دیکھنے پر مصنوعی یا کسی بڑے تصادم کا نتیجہ محسوس ہوتا ہے۔
اگرچہ اب اس کی اصل سائنسی طور پر واضح ہو چکی ہے، لیکن اس کی غیر معمولی شکل اور وسیع پیمانے نے اسے آج بھی دنیا کے پراسرار اور دلچسپ قدرتی عجائبات میں شامل رکھا ہے۔