عالمی ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پر سائبر حملوں سے نہ صرف مالی نقصان بڑھ سکتا ہے بلکہ قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات، ادائیگی کے نظام میں خلل اور عالمی مارکیٹس میں عدم استحکام بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی مالیاتی نظام کی گہری باہمی وابستگی کے باعث ایک چھوٹا سا سائبر حملہ بھی بڑے پیمانے پر اثر ڈال سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جدید اے آئی(AI) ماڈلز کی وجہ سے کمزوریوں کو تلاش کرنا اور ان کا فائدہ اٹھانا پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور سستا ہو گیا ہے، جس سے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض جدیداے آئی (AI) سسٹمز ایسے ’’زیرو ڈے‘‘ سیکیورٹی خلا بھی تلاش کر سکتے ہیں جن کا علم پہلے سے سافٹ ویئر ڈویلپرز کو نہیں ہوتا، جس سے سائبر حملے مزید خطرناک بن جاتے ہیں۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ترقی پذیر ممالک اس خطرے سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ وہاں سائبر سیکیورٹی کے وسائل نسبتاً محدود ہوتے ہیں۔ادارے نے مزید کہا کہ چونکہ عالمی نظام چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور کلاؤڈ سروسز پر انحصار کرتا ہے، اس لیے کسی ایک کمزوری کا اثر پوری دنیا میں پھیل سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق اب صرف دفاع کافی نہیں، بلکہ نظام میں لچک پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی حملے کے بعد تیزی سے بحالی ممکن ہو سکے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے بھی پہلے خبردار کیا تھا کہ عالمی مالیاتی نظام ابھی اےآئی(AI) سے پیدا ہونے والے سائبر خطرات کے لیے تیار نہیں ہے، اور اس حوالے سے عالمی سطح پر مضبوط تعاون اور حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔