انمول پنکی 6 مقدمات میں بری ہوگئی،3 پولیس اہلکار معطل

انمول پنکی 6 مقدمات میں بری ہوگئی،3 پولیس اہلکار معطل

کراچی میں گرفتار مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات میں مزید چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ کراچی پولیس کے ایڈیشنل آئی جی آزاد خان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پنکی ایک وسیع اور منظم نیٹ ورک چلا رہی تھی جس کے رابطے نہ صرف کراچی اور لاہور بلکہ بین الاقوامی سطح تک موجود تھے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ انمول پنکی 6 مقدمات میں بری ہوچکی ہے تاہم دیگر مقدمات میں اس کی گرفتاری ڈال کر قانونی کارروائی آگے بڑئی جارہی ہے۔پنکی کی گرفتاری کے بعد غفلت برتنے والے تین پولیس اہلکاروں کو بھی معطل کر دیا گیا ہے

انہوں نے کہا کہ نیٹ ورک میں شامل 20 خواتین کا تعلق لاہور سے ہے جبکہ منشیات کی ترسیل میں ملوث 9 رائیڈرز میں سے 8 لاہور اور ایک کراچی سے تعلق رکھتا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک مختلف شہروں میں انتہائی منظم انداز میں سرگرم تھا۔

یہ بھی پڑھیں:انمول پنکی کیس میں نیا موڑ، اہم راز فاش، تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق کیس میں قانون نافذ کرنے والے بعض اہلکاروں کے کردار کی بھی چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی پولیس کے ایک سینئر افسر اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے ایک اہلکار پر مبینہ طور پر پنکی کی معاونت کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے بھاری رشوت کے عوض ملزمہ کے خلاف درج مقدمات میں کمزور تفتیش اور ناقص چالان تیار کیے جس کے باعث متعدد کیسز میں ملزمہ اور اس کے ساتھیوں کو فائدہ پہنچا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ماضی میں جب پنکی کے مبینہ سپلائرز اور رائیڈرز گرفتار ہوئے تو کیسز میں اس کا نام آنے کے باوجود تفتیش کو کمزور کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی ملزمان بری ہو گئے جبکہ پنکی بھی سزا سے بچتی رہی۔

ذرائع کے مطابق ساؤتھ زون کے ایک سینئر افسر کا نام بھی سامنے آیا ہے جس پر عدالت پیشیوں اور کیس ہینڈلنگ کے دوران مبینہ اثر و رسوخ استعمال کرنے کا الزام ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles