ٹیسلا کی خودکار ’روبو ٹیکسی‘ سروس کو ایک اور دھچکا، ریموٹ کنٹرول کے دوران کم از کم دو حادثات پیش آنے کا انکشاف سامنے آگیا۔
امریکی ادارے نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) کو جمع کروائی گئی نئی اور غیر خفیہ دستاویزات کے مطابق جولائی 2025 کے بعد سے ٹیسلا روبو ٹیکسیز کم از کم دو مرتبہ ایسے حادثات کا شکار ہوئیں جب گاڑیاں ریموٹ آپریٹرز کے ذریعے چلائی جا رہی تھیں۔
ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق دونوں حادثات امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں پیش آئے اور اس وقت گاڑیوں میں کوئی مسافر موجود نہیں تھا، البتہ حفاظتی مانیٹر ڈرائیور سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیسلا نے اس سے قبل قانون سازوں کو آگاہ کیا تھا کہ کمپنی کے ریموٹ آپریٹرز 10 میل فی گھنٹہ سے کم رفتار پر گاڑیوں کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ اس سسٹم کا مقصد ایسی گاڑیوں کو فوری حرکت دینا ہے جو کسی مشکل صورتحال میں پھنس جائیں، تاکہ ہنگامی عملے کے انتظار کی ضرورت نہ پڑے۔
پہلا حادثہ جولائی 2025 میں پیش آیا، جب آسٹن میں روبو ٹیکسی سروس کے آغاز کے کچھ ہی دن بعد ایک گاڑی سڑک پر رکی رہی اور خودکار ڈرائیونگ سسٹم اسے آگے بڑھانے میں ناکام رہا۔ بعد ازاں حفاظتی مانیٹر نے ٹیسلا کی ریموٹ آپریشن ٹیم سے مدد طلب کی۔
رپورٹ کے مطابق ریموٹ آپریٹر نے گاڑی کا کنٹرول سنبھالا، رفتار آہستہ آہستہ بڑھائی اور بائیں جانب موڑا، تاہم گاڑی کرب پر چڑھ گئی اور دھاتی باڑ سے جا ٹکرائی۔
دوسرا حادثہ جنوری 2026 میں پیش آیا، جب ایک روبو ٹیکسی دورانِ سفر اچانک رک گئی۔ نیویگیشن سپورٹ کی درخواست کے بعد ریموٹ آپریٹر نے گاڑی کا کنٹرول سنبھالا، لیکن کچھ دیر بعد گاڑی تقریباً 9 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ایک عارضی تعمیراتی رکاوٹ سے ٹکرا گئی۔
این ایچ ٹی ایس اے کی رپورٹ کے مطابق اس حادثے میں گاڑی کے اگلے بائیں حصے اور ٹائر کو نقصان پہنچا۔رپورٹ میں شامل دیگر حادثات میں زیادہ تر ایسے تھے جہاں دوسری گاڑیوں نے ٹیسلا روبو ٹیکسیز کو ٹکر ماری، تاہم کم از کم دو واقعات ایسے بھی تھے جن میں روبو ٹیکسیز نے قریبی گاڑیوں کے سائیڈ مررز سے ٹکرائی۔
ستمبر 2025 میں پیش آنے والے ایک اور واقعے میں روبو ٹیکسی سڑک پر اچانک آنے والے کتے کو بچانے میں ناکام رہی، تاہم ٹیسلا کے مطابق کتا بعد میں بھاگ گیا تھا۔اسی ماہ ایک الگ حادثے میں روبو ٹیکسی بغیر حفاظتی سگنل کے بائیں جانب مڑی اور پارکنگ ایریا میں داخل ہوتے ہوئے دھاتی چین سے جا ٹکرائی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انکشافات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ ٹیسلا اپنی خودکار رائیڈ ہیلنگ سروس کو اب تک محدود پیمانے پر کیوں چلا رہی ہے۔گزشتہ ماہ ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو آفیسرایلون مسک نے بھی اعتراف کیا تھا کہ مکمل محفوظ خودکار ڈرائیونگ اب بھی کمپنی کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔