وہ سمندر جو ریگستان میں بدل گیا،خاموش جہاز کی حقیقت

وہ سمندر جو ریگستان میں بدل گیا،خاموش جہاز کی حقیقت

آج سے تقریباً تین دہائیاں پہلے یہ جہاز دنیا کی چوتھی بڑی اندرونی جھیل یعنی ارال سی میں تیرتے تھے، مگر وقت نے ایسا پلٹا کھایا کہ یہی پانی کا ذخیرہ اب خشک زمین میں تبدیل ہو چکا ہے۔

وسطی ایشیا میں واقع ارال سی کو جدید دور کی سب سے بڑی ماحولیاتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق زرعی ضروریات کے لیے پانی کے بڑے پیمانے پر رخ موڑنے کے باعث یہ سمندر بتدریج سکڑتا گیا، یہاں تک کہ اس کا وجود تقریباً ختم ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں :میٹا کا بڑا اقدام، مصنوعی ذہانت سےجنگی ہیلمٹ تیار

پانی کے خاتمے کے ساتھ ہی ماہی گیر بستیاں اجڑ گئیں، سمندری حیات ختم ہونے لگی اور سینکڑوں کشتیاں اور بڑے جہاز خشکی میں پھنس کر رہ گئے۔

جو جہاز کبھی پانی کی لہروں پر رواں تھے، آج وہ ریگستان کی خاک میں خاموش کھڑے ہیں۔ ان کھوکھلے ڈھانچوں کے نیچے اب اونٹ سایہ لیتے نظر آتے ہیں، جیسے فطرت خود اپنی بربادی کی کہانی سنا رہی ہو۔

یہ منظر ایک تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ فطرت صدیوں میں خوبصورت نظام تشکیل دیتی ہے، لیکن انسانی مداخلت اسے چند دہائیوں میں تباہ کر سکتی ہے۔

editor

Related Articles