عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی ایک بار پھر بڑھنے کا خدشہ ہے اور رواں مالی سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں سی پی آئی کے تحت مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے اوپر جا سکتی ہے جبکہ 2027 میں یہ اوسطاً 8.4 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی کے تیسرے اور ریزیلئنس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسیلیٹی کے دوسرے جائزے کی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں جس کے باعث پاکستان سمیت خطے کی معیشتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں مہنگائی کی شرح صرف 4.5 فیصد تھی تاہم حالیہ عرصے میں خوراک بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ سی پی آئی پر اثر انداز ہوا ہے۔ اپریل میں سالانہ مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ بنیادی مہنگائی بھی 8.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو سفارش کی ہے کہ وہ مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اپنی مانیٹری پالیسی کو سخت رکھے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق شرح سود میں سختی کا مقصد مہنگائی پر قابو پانا اور توانائی کی قیمتوں کے اثرات کو محدود کرنا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت کے اقدامات آئی ایم ایف پروگرام کے اصولوں کے مطابق ہیں جن میں قیمتوں اور روپے کی قدر کو مارکیٹ پر چھوڑنا مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا اور غریب طبقے کو ہدفی امداد فراہم کرنا شامل ہے۔
آئی ایم ایف نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگر مانیٹری پالیسی اور اصلاحاتی عمل جاری رہا تو مالی سال 2028 تک مہنگائی کو دوبارہ مقررہ ہدف کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔