پاکستان میں پہلے سے ہی مہنگی بجلی اور بھاری بلوں سے پریشان عوام کے لیے ایک اور انتہائی تشویشناک اور ہوش رُبا انکشاف سامنے آیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ملکی توانائی کے شعبے کو ٹیکس وصولی کے ایک اضافی اور آسان ذریعے (شارٹ کٹ) کے طور پر استعمال کیے جانے کا پردہ چاک ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس پالیسی کے باعث بجلی کے صارفین کے ماہانہ بلوں میں مختلف خفیہ اور اضافی ٹیکس شامل کر کے ان سے چپکے سے اربوں روپے بٹورے جا رہے ہیں، جس نے غریب اور متوسط طبقے سمیت پوری تاجر برادری کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔
بجلی کے بلوں میں شامل 6 مختلف اقسام کے ٹیکسز کی تفصیل
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دستیاب دستاویزی معلومات کے مطابق ایک عام صارف کو بھیجے جانے والے بجلی کے بل میں صرف استعمال شدہ بجلی کی قیمت ہی شامل نہیں ہوتی، بلکہ اس میں مجموعی طور پر 6 مختلف اقسام کے ظالمانہ ٹیکسز شامل کیے جا رہے ہیں۔
ان ٹیکسز میں نمایاں ترین جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) ہے، ہر بل پر مجموعی طور پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔
انکم ٹیکس کی مد میں صارفین کی آمدن کا تعین کیے بغیر بلوں پر انکم ٹیکس لاگو ہے۔ ایڈوانس ٹیکس کی مد میں ایک خاص حد سے زیادہ بل آنے پر بھاری شرح سے ایڈوانس ٹیکس بھی وصول کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مروجہ صوبائی اور وفاقی ڈیوٹیز بھی ان 6 ٹیکسوں کا حصہ ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ان تمام ٹیکسوں کو اگر جمع کیا جائے تو انکشاف ہوتا ہے کہ حکومت اس وقت صارفین سے فی یونٹ بجلی پر تقریباً 9 روپے تک کا صرف اضافی ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ یعنی اگر کوئی صارف 100 یونٹ بجلی استعمال کرتا ہے تو وہ صرف 900 روپے حکومت کو مختلف ٹیکسوں کی مد میں ادا کرنے پر مجبور ہے۔
ایف بی آر کی نااہلی اور توانائی کا شعبہ
ماہرینِ معیشت یہ واشگاف اعتراف کر چکے ہیں کہ ایف بی آر ملک کے بڑے تاجروں، بااثر ریئل اسٹیٹ مافیا اور امیر طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ان سے براہِ راست ٹیکس وصول کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔
اپنی اسی ناکامی اور حکومت کے سالانہ ٹیکس اہداف کو پورا کرنے کے لیے، ایف بی آر نے ایک انتہائی آسان لیکن عوام دشمن راستہ چنا ہے اور وہ ہے بجلی کے بلوں کے ذریعے ’ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن‘ (بالواسطہ ٹیکس)۔ چونکہ بجلی ہر گھر اور صنعت کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کا بل ادا نہ کرنے پر کنکشن کاٹ دیا جاتا ہے، اس لیے حکومت عوام کو مجبور کر کے اس شعبے سے سب سے زیادہ نقد ٹیکس نچوڑ رہی ہے۔
گھریلو اور صنعتی شعبے پر مالی دباؤ
معاشی اور صنعتی تجزیہ کاروں کے مطابق بجلی کے بلوں میں 9 روپے فی یونٹ تک کا اضافی ٹیکس ملکی معیشت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہا ہے۔
اس کے 2 بڑے ہولناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں، عام شہریوں کی قوتِ خرید پہلے ہی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کی آمدن کا ایک بڑا حصہ اب صرف بجلی کا بل ادا کرنے میں چلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ملک میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
صنعتی شعبے پر دباؤ
صنعتی اور کاروباری برادری کے لیے پیداواری لاگت (کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس) دنیا میں سب سے بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ جب صنعتوں کو اتنی مہنگی بجلی اور اس پر 9 روپے فی یونٹ ٹیکس دینا پڑے گا، تو وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کا مقابلہ نہیں کر پائیں گی۔
اس کے نتیجے میں ملک کی ایکسپورٹس (برآمدات) بند ہو رہی ہیں، کارخانے تالے لگنے کے دہانے پر ہیں اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔ اگر حکومت نے فوری طور پر توانائی کے شعبے کو ٹیکس کا ہدف بنانا بند نہ کیا، تو یہ معاشی دباؤ بہت جلد ایک بڑے عوامی احتجاج کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔