چین میں آجکل ایک ننھا سا بچہ سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ چرچا نہ کسی سیاسی بیان کا ہے اور نہ ہی کسی بڑی تقریب کا، بلکہ ایک چھوٹے سے روایتی بیگ کا ہے۔
دنیا کے معروف ارب پتی ایلون مسک کے بیٹے ایکس اے اے الیون، جسے ’لٹل ایکس‘ بھی کہا جاتا ہے اس نے حالیہ ٹرمپ شی جن پنگ سربراہی اجلاس کے دوران اپنی سادگی، معصوم انداز اور چینی ثقافت سے جڑے لباس کے ذریعے سب کے دل جیت لیے۔
جب ایلون مسک اپنے بیٹے کے ہمراہ گریٹ ہال آف دی پیپل پہنچے تو وہاں موجود سفارت کاروں، کاروباری شخصیات اور میڈیا کی نظریں فوراً اس ننھے مہمان پر جا ٹھہریں۔
لٹل ایکس نے سفید قمیض، گہرے رنگ کی پتلون اور نیلے رنگ کی خوبصورت ریشمی واسکٹ پہن رکھی تھی، جس پر نفیس کڑھائی کی گئی تھی تاہم سب سے زیادہ توجہ اس کے کندھے پر لٹکے ہوئے چیتے کی شکل کے منفرد بیگ نے حاصل کی۔
یہ بیگ چین کے صوبے گوانگشی کے مقامی ہینڈی کرافٹ برانڈ ’یاسٹی‘ کی تخلیق ہے ، جیسے ہی لٹل ایکس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، ویسے ہی اس بیگ کی مانگ میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی قیمت تین سو یوآن سے بھی تجاوز کر گئی۔
واضح رہے کہ چینی ثقافت میں چیتے کی شکل والے لباس اور اشیاء کو بچوں کے لیے خوش قسمتی اور تحفظ کی علامت سمجھا جاتا ہے، صدیوں پرانی روایات کے مطابق بچوں کو ’ہو تو‘ یعنی چیتے کے سر والی اشیاء پہنائی جاتی تھیں تاکہ وہ بری نظر اور آفات سے محفوظ رہیں ، لٹل ایکس کا یہ بیگ اسی قدیم روایت کا جدید انداز میں تیار کردہ نمونہ ہے۔
بیگ کے ڈیزائن میں چیتے کی بڑی آنکھیں، سیاہ بھنویں اور نیلی زبان شامل کی گئی ہے، جو اسے نہایت دلکش اور منفرد بناتی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ یہ صرف ایک فیشن آئٹم نہیں بلکہ ثقافتی علامت کے طور پر بھی مقبول ہو رہا ہے۔
چینی عوام نے لٹل ایکس کے اس انداز کو بے حد سراہا ہے اور اسے مقامی ثقافت کے احترام کی علامت قرار دیا جا رہا ہے ، سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کی جانب سے اپنے بیٹے کو چینی روایتی انداز میں پیش کرنا دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ جذبات کو ظاہر کرتا ہے۔
اس موقع پر ایلون مسک نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ان کا بیٹا مینڈرین زبان سیکھنے کی کوشش کر رہا ہے ، یہ صرف زبان سیکھنے کا عمل نہیں بلکہ مختلف ثقافتوں کو سمجھنے اور قریب آنے کا ایک خوبصورت ذریعہ بھی ہے۔
لٹل ایکس کی اس سادہ مگر منفرد جھلک نے نہ صرف سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی بلکہ مسک خاندان کے لیے چینی عوام کے دلوں میں مزید گنجائش پیدا کر دی ہے۔