حکومتِ پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کی جانے والی حالیہ معمولی کٹوتی کو ملک بھر کے شہریوں نے یکسر ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں چند روپوں کا علامتی ریلیف بڑھتی ہوئی لہر کے سامنے بند باندھنے میں ناکام رہا ہے۔
شہریوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں قیمتوں میں یکمشت 14 سے 40 روپے تک کا بھاری اضافہ کیا گیا تھا اور اب اس کے بدلے میں محض 5 روپے کی معمولی کمی کرنا عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔
عید کی آمد اور مہنگائی کا بوجھ
اس عوامی احتجاج اور مایوسی کا پس منظر ملک میں آنے والی بڑی عید (عید الاضحیٰ) سے جڑا ہوا ہے۔ عید کی آمد کے باعث جہاں شہریوں کے اخراجات پہلے ہی دگنے ہو جاتے ہیں، وہیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا سستا نہ ہونا مہنگائی کی آگ کو مزید بھڑکا رہا ہے۔
عام شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ مہینوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچایا گیا، جس کے نتیجے میں مال برداری کے اخراجات (ٹرانسپورٹیشن چارجز) بڑھ گئے۔
اس کے نتیجے میں روزمرہ کی اشیائے خورونوش، سبزیوں، پھلوں اور دالوں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئیں۔ اب جبکہ عید سر پر ہے، عوام حکومت کی طرف سے کسی بڑے معاشی پیکیج یا بڑی کٹوتی کی امید لگائے بیٹھے تھے، مگر 5 روپے کی کمی نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
جانور اور کپڑے خریدنا خواب بن گیا
سماجی حلقوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت براہِ راست ملک کے غریب اور مڈل کلاس طبقے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں تو ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، لیکن جب اس میں 5 روپے جیسی معمولی کمی کی جائے تو ٹرانسپورٹرز اور تاجر کرایوں یا قیمتوں میں ایک روپے کی بھی کمی نہیں کرتے۔ اس لیے اس 5 روپے کی کمی کا براہِ راست فائدہ عام صارف کو نہیں پہنچ پاتا۔
سماجی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے شہریوں نے اپنے دل بھڑاس نکالتے ہوئے کہا کہ اس سال مہنگائی کے ہولناک طوفان کے باعث صورتحال ابتر ہو چکی ہے۔ عید کے لیے قربانی کا جانور خریدنا تو دور کی بات، اب تنخواہ دار اور دہاڑی دار طبقے کے لیے اپنے بچوں کو عید کے نئے کپڑے اور جوتے دلانا بھی ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔
قربانی کی منڈیوں میں جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں کیونکہ چارے اور ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھ چکی ہے۔ شہریوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اب بھی ہوش کے ناخن لے، عوام کی حالتِ زار پر رحم کھائے اور عید کی خوشیوں کو ماند پڑنے سے بچانے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری طور پر مزید بڑی کمی کا اعلان کرے۔