فلمیں کیسے چنتے ہیں؟ سلمان خان نے راز کھول دیا

فلمیں کیسے چنتے ہیں؟ سلمان خان نے راز کھول دیا

بھارتی اداکار سلمان خان نے فلموں کے انتخاب، اسکرپٹ سننے کے انداز اور اپنی ذاتی عادات سے متعلق ایسے دلچسپ انکشافات کیے ہیں جنہوں نے مداحوں کو حیران کردیا۔

ایک حالیہ انٹرویو میں سلمان خان نے بتایا کہ وہ اپنے طویل فلمی کیریئر کے دوران کئی فلموں کے اسکرپٹس لکھنے کے عمل میں شامل رہے، مگر حیران کن طور پر انہوں نے کبھی کسی فلم کا مکمل اسکرپٹ خود بیٹھ کر نہیں پڑھا۔

یہ بھی پڑھیں پاکستانی شوبز میں عمر کے دہرےمعیار پر عمارہ خان کا سخت بیان سامنے آگیا

اداکار کے مطابق وہ اسکرپٹ پڑھنے کے بجائے سننا زیادہ پسند کرتے ہیں، کیونکہ پڑھتے وقت ان کا ذہن تیزی سے آگے نکل جاتا ہے۔ سلمان خان نے کہا کہ جب وہ تیسری لائن پڑھ رہے ہوتے ہیں تو ان کا ذہن پانچویں لائن تک پہنچ چکا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے کہانی کا تسلسل متاثر ہوتا ہے اور وہ مکمل توجہ کے ساتھ اسکرپٹ کو محسوس نہیں کر پاتے۔

سلمان خان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے وہ ہمیشہ چاہتے ہیں کہ فلم کا مصنف یا ہدایت کار خود انہیں اسکرپٹ سنائے۔ ان کے مطابق اس طریقے سے انہیں نہ صرف کہانی بہتر انداز میں سمجھ آتی ہے بلکہ یہ بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ ہدایت کار فلم کو کس وژن اور جذبات کے ساتھ اسکرین پر لانا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :فرحان سعید کا رشتوں پر کھلا بیان وائرل

بالی وڈ اسٹار نے مزید بتایا کہ وہ کسی بھی فلم کو منتخب کرتے وقت صرف کہانی ہی نہیں دیکھتے بلکہ اس کے جذباتی اثرات اور باکس آفس پر کامیابی کے امکانات کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ خود اسکرپٹ پڑھیں تو فوراً ان کے ذہن میں یہ خیال آنا شروع ہوجاتا ہے کہ وہ اس فلم کو کس انداز میں بناتے، جبکہ ان کا وژن اکثر ہدایت کار یا مصنف سے مختلف ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :’ایکس‘ پر ایک اور حسینہ ’را‘ کا اکاؤنٹ نکلا

انٹرویو کے دوران سلمان خان نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق بھی ایک دلچسپ انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ مداح اکثر انہیں مہنگی اور لگژری گھڑیاں پہنے دیکھتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے پاس قیمتی گھڑیوں کی کوئی بڑی کلیکشن موجود نہیں۔ اداکار نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ کئی بار اپنے دوستوں سے گھڑیاں ادھار لے لیتے ہیں۔

سلمان خان کے یہ بیانات سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہورہے ہیں، جہاں مداح ان کے منفرد اندازِ فکر اور سادہ طرزِ زندگی پر دلچسپ تبصرے کررہے ہیں۔

editor

Related Articles