پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شعبے کی کامیابی کے لیے مضبوط انفرااسٹرکچر ، آسان فنانسنگ اور مستقل حکومتی پالیسی انتہائی ضروری ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کی عالمی کمپنی “بی وائی ڈی” کے سیلز اینڈ اسٹریٹیجی کے نائب صدر دانش خالق نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ حالیہ مہینوں میں عوام کی دلچسپی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے اور شو رومز پر انکوائریز دو سے تین گنا تک بڑھ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اب روایتی فیول گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں کے اخراجات اور فوائد کا باقاعدہ موازنہ کر رہے ہیں۔
دانش خالق نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیاں اب صرف مہنگی ٹیکنالوجی نہیں رہیں بلکہ کئی ماڈلز قیمت کے لحاظ سے روایتی ایس یو وی گاڑیوں کے برابر یا بعض صورتوں میں نسبتاً سستے بھی ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کی کامیابی کے لیے چارجنگ نیٹ ورک سب سے اہم عنصر ہے، کیونکہ صارفین میں بیٹری ختم ہونے کا خوف ایک بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔
کمپنی کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں سروس اور چارجنگ نیٹ ورک کو وسعت دے رہی ہے تاکہ عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوسکے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی کی گاڑیوں میں جدید بیٹری ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے جس کی بدولت گاڑیاں طویل عرصے تک بہتر کارکردگی فراہم کرتی ہیں۔
انہو ں نے کہا کہ حکومت اگر طویل المدتی اور مستقل پالیسی اپنائے، ٹیکس اور ڈیوٹیز میں توازن رکھے اور گرین فنانسنگ کے آسان مواقع فراہم کرے تو پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت تیزی سے ترقی کرسکتی ہے۔