امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی ٹیم کا اہم اجلاس طلب کیا جس میں ایران سے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے تناظر میں آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں نائب صدر، وزیر خارجہ، سی آئی اے ڈائریکٹر اور دیگر اعلیٰ سیکیورٹی و دفاعی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، ایران کی عسکری سرگرمیوں اور امریکا کے ممکنہ ردعمل سے متعلق مختلف آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ ملاقات ورجینیا میں واقع اپنے گالف کلب میں دورۂ چین سے واپسی کے بعد کی جبکہ آئندہ دنوں میں قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ مزید مشاورت بھی متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تو پینٹاگون مختلف عسکری منصوبے پہلے ہی تیار کرچکا ہے۔ ان منصوبوں میں محدود فضائی کارروائیوں سے لے کر حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے تک مختلف آپشنز شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے توانائی تیل اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق اہم اہداف پر محدود حملوں کی تجویز بھی زیر غور ہے تاہم حتمی فیصلہ سیاسی و عسکری مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی حکام خطے میں اتحادی ممالک کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جاسکے