مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی تنازعات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو ایک بار پھر آگ لگ گئی ہے۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پر ہونے والے حالیہ حملے اور ایران کے خلاف امریکا و اسرائیل کی ممکنہ مشترکہ فوجی کارروائی کی ہولناک اطلاعات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید بے یقینی اور خوف کی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے براہِ راست منفی اثرات پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں پر مرتب ہوئے ہیں۔
قیمتوں کا تازہ ترین اعداد و شمار
عالمی توانائی کے تجارتی مراکز (کموڈٹی مارکیٹس) میں مینوفیکچرنگ اور سپلائی کے خدشات کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔
امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی)
بین الاقوامی مارکیٹ میں امریکی خام تیل کی قیمت میں 1.75 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد یہ ریکارڈ سطح یعنی 107.26 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
برینٹ کروڈ (بین الاقوامی معیار)
عالمی سطح پر سب سے زیادہ تجارت کیے جانے والے برینٹ کروڈ کے نرخوں میں بھی 1.32 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ 110.70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرنے لگا ہے۔
یو اے ای پر حملہ اور ایران کے خلاف جنگی تیاریاں
تیل کی قیمتوں میں اس حالیہ اور اچانک اچھال کا پس منظر براہِ راست مشرقِ وسطیٰ کے خراب ہوتے ہوئے حالات سے جڑا ہوا ہے۔
عالمی میڈیا کی ان رپورٹس نے مارکیٹ میں زلزلہ پیدا کر دیا ہے جن کے مطابق ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل آئندہ ہفتے ایران کے فوجی اڈوں، بنیادی ڈھانچے اور بالخصوص خلیج فارس میں واقع اس کے سب سے بڑے تیل برآمدی مرکز ’خارگ آئی لینڈ‘ پر حملے کی حتمی تیاریاں کر رہے ہیں۔
اس اسٹرٹیجک کشیدگی کے بیچ یو اے ای کی سمندری حدود یا پیٹرولیم تنصیبات پر ہونے والے حالیہ حملے نے عالمی خریداروں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اگر باقاعدہ جنگ شروع ہوئی تو آبنائے ہرمز سے ہونے والی تیل کی سپلائی لائن مکمل طور پر بلاک ہو جائے گی۔
افراطِ زر کا نیا طوفان
واضح رہے کہ خام تیل کی قیمتوں کا 110 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو عبور کرنا عالمی معیشت بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے لیے کسی تباہی سے کم نہیں ہے۔ اگر خلیج فارس میں جنگ کے بادل اسی طرح گہرے رہے، تو یہ قیمتیں بہت جلد 120 سے 130 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ تیل مہنگا ہونے سے نہ صرف عالمی سطح پر فضائی اور بحری مال برداری (شپنگ کاسٹ) مہنگی ہو جائے گی، بلکہ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں افراطِ زر (مہنگائی) کا ایک نیا اور بے قابو طوفان آئے گا۔
پاکستان، بھارت اور دیگر امپورٹڈ تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کا تجارتی خسارہ مزید بڑھ جائے گا اور انہیں اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کرنا پڑے گا، جو کہ پہلے سے پسی ہوئی عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کا سبب بنے گا۔ جب تک امریکا اور ایران کے مابین تناؤ کم نہیں ہوتا، عالمی مارکیٹ میں پائیدار استحکام کا آنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔