امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان پیٹرولیم اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت پہنچ گئے

امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان پیٹرولیم اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت پہنچ گئے

امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے ملک بھر میں نافذ پٹرولیم لیوی کے نظام اور حال ہی میں متعارف کروائی جانے والی ’کلائمیٹ سپورٹ لیوی‘ کو وفاقی آئینی عدالت میں باقاعدہ چیلنج کر دیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان اپنے وکلا کی ٹیم کے ہمراہ جب وفاقی آئینی عدالت پہنچے، تو وہاں ایک منفرد منظر دیکھنے کو ملا۔ عام حالات میں عدالت کے احاطے کے اندر صرف عدالتی افسران اور سرکاری وکلا کو ہی گاڑیاں لے جانے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن عدالت کی تاریخ میں حافظ نعیم الرحمان پہلے ایسے سائل بن گئے ہیں جن کی گاڑی کو خصوصی طور پر وفاقی آئینی عدالت کے اندر داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سرکاری ملازمین کی آواز بن گئے

امیر جماعتِ اسلامی کی جانب سے یہ تاریخی آئینی درخواست نامور قانون دان ایڈووکیٹ عمران شفیق کے ذریعے دائر کی گئی ہے، انہوں نے درخواست میں پیٹرولیم لیوی کو غریب دشمن اور آئینِ پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

درخواست کے بنیادی نکات اور ہوش رُبا اعداد و شمار

ایڈووکیٹ عمران شفیق کے توسط سے دائر کی گئی اس تفصیلی آئینی درخواست میں وفاقی بجٹ کے دستاویزی اور مائیکرو اکنامک اعداد و شمار عدالت کے سامنے رکھے گئے ہیں۔

اعداد و شمار ک ےمطابق اس وقت پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی تقریباً 117.41 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، جو کہ پاکستان کی مالیاتی تاریخ کی بلند ترین اور سنگین ترین سطح ہے۔

قیمت کا 42 فیصد حصہ

صرف پیٹرولیم لیوی ہی پیٹرول کی بنیادی ایکس ریفائنری قیمت (کارخانے کی اصل لاگت) کا تقریباً 42 سے 43 فیصد بنتی ہے، جبکہ اس لیوی کے علاوہ بھی دیگر مختلف ٹیکسز عوام سے زبردستی وصول کیے جا رہے ہیں۔

مالی سال 2025-26 کا تخمینہ

وفاقی بجٹ کی دستاویزات کے مطابق موجودہ مالی سال 26-2025 میں صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام کی جیبوں سے تقریباً 1.47 ٹریلین روپے وصول کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو پورے ملکی وفاقی بجٹ کا تقریباً 8.3 فیصد بنتا ہے۔

مجموعی وصولیاں

پیٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت اب تک مجموعی طور پر 6.3 ٹریلین روپے سے زیادہ کی خطیر رقم عوام سے نچوڑ چکی ہے۔

فنانس ایکٹ 2025 اور پارلیمنٹ کا ففتھ شیڈول

اگر اس کیس کا آئینی اور پارلیمانی پس منظر دیکھا جائے، تو ماضی میں پیٹرولیم لیوی کی ایک قانونی اور حتمی حد مقرر ہوتی تھی، جسے ہر سال ملک کی پارلیمان خود طے کرتی تھی۔ تاہم، حکومت نے ’فنانس ایکٹ 2025‘ کے ذریعے ایک بڑا آئینی وار کرتے ہوئے پیٹرولیم لیوی پر پہلے سے موجود قانونی حد کو یکسر ختم کر دیا۔

درخواست میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ نے ففتھ شیڈول (پانچواں شیڈول) ختم کر کے عملی طور پر بیوروکریسی اور ایگزیکٹو (حکومت) کو کھلی، اندھی اور غیر محدود مالیاتی پاورز سونپ دیں۔

اب پارلیمنٹ کو بائی پاس کر کے مسلسل ایگزیکٹو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز (خصوصی احکامات) کے ذریعے جب جی چاہے لیوی میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، بجلی کی پیداوار اور خوراک سمیت روزمرہ زندگی کے اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔

’لیوی‘ کے نام پر ٹیکس

واضح رہے کہ جماعتِ اسلامی کی جانب سے دائر کی گئی یہ درخواست وفاقی حکومت کے مالیاتی ڈھانچے کی بنیادوں کو ہلا سکتی ہے۔ درخواست میں ایک انتہائی اہم قانونی نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ حکومت اس وصولی کو صرف بدنامی سے بچنے کے لیے ’لیوی‘ کا عنوان دیتی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک خالص ’ٹیکس‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

قانون کی رو سے ’لیوی‘ وہ رقم ہوتی ہے جس کے بدلے حکومت عوام کو کوئی مخصوص سروس، خدمت یا براہِ راست فائدہ فراہم کرے، لیکن یہاں لیوی کے بدلے عوام کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا، بلکہ یہ عوام سے جبری طور پر وصول کی جانے والی ایک عمومی ریونیو وصولی بن چکی ہے۔

ایک عام ٹیکس کو پیٹرولیم لیوی کا نام دے کر حکومت نے دراصل ان آئینی تقاضوں اور پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی ہے جو آئینِ پاکستان نے ٹیکس لگانے پر عائد کر رکھی ہیں۔

یہ طرزِ عمل نہ صرف آئین کی روح اور پارلیمانی مالیاتی خودمختاری کے خلاف ہے، بلکہ یہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی خودمختاری کے اصولوں سے بھی متصادم ہے، کیونکہ لیوی کی رقم صوبوں کے ساتھ شیئر نہیں کی جاتی۔ یہ طریقہ کار وفاق کے توازن اور ملکی آئینی مالیاتی نظم کے لیے انتہائی سنگین نتائج کا حامل ہے۔

Related Articles