امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے باعث اندرونِ ملک شدید عوامی ردعمل کا سامنا ہے، جہاں ممکنہ جنگ کے معاشی اثرات نے عوام کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔
بڑھتی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی بے یقینی کے سبب امریکی شہری صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں، جبکہ ایران کے خلاف جنگی مؤقف کو بھی عوامی سطح پر غیر مقبول قرار دیا جا رہا ہے۔
الجزیرہ ٹی وی نے واشنگٹن سے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنگ نے امریکی عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے خاص طور پر مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے حوالے سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں ان خدشات کی پرواہ نہیں، ان کے مطابق جیسے ہی یہ جنگ ختم ہوگی حالات اچانک معمول پر آجائیں گے تاہم امریکی شہری اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے، ان کا کہنا ہے کہ ان پر مہنگائی کا بوجھ بڑھ گیا ہے اور زندگی گزارنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ ووٹرز نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاکہ وہ صدر ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے خلاف اپنی ناراضگی کا واضح اظہار کر سکیں۔
مبصرین کے مطابق ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی عوامی بے چینی میں اضافہ کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے سیاسی اثرات بھی آنے والے دنوں میں نمایاں طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔