خطۂ جنوبی ایشیا میں دفاعی توازن کو شدید خطرات سے دوچار کرنے اور نئی دہلی کو عسکری طور پر مضبوط بنانے کے لیے امریکی پنٹاگون اور محکمۂ خارجہ کی جانب سے ایک اور بڑی اور تشویشناک عسکری منظوری سامنے آئی ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے نئی دہلی کی جنگی صلاحیتوں میں اضافے اور اس کے فضائی و زمینی بیڑے کو جدید ترین خطوط پر برقرار رکھنے کے لیے اپاچی لڑاکا ہیلی کاپٹرز کی سپورٹ سروسز اور جدید ترین فوجی آلات کی فراہمی کے ایک بھاری ٹھیکے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیانات کے مطابق، اس نئے دفاعی پیکیج کے تحت امریکی دفاعی کمپنیاں بھارتی فوج کے بیڑے کو مزید مؤثر بنائیں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ نے اس سودے کے ساتھ ساتھ بھارتی زمینی فوج کے لیے الٹرا لائٹ ہووٹزر توپوں کے سپورٹ پیکیج کی بھی منظوری دی ہے، جس سے اس مجموعی عسکری ڈیل کا حجم کروڑوں ڈالرز تک پہنچ گیا ہے۔
دفاعی سودوں کے مالیاتی اعداد و شمار
امریکی دفاعی سیکیورٹی تعاون ایجنسی کی جانب سے فراہم کردہ باضابطہ تفصیلات کے مطابق ان دفاعی سودوں کے مائیکرو اعداد و شمار اہم دفاعی سازوسامان شامل ہے۔
اپاچی ہیلی کاپٹر ڈیل کی مالیت
بھارت کے لیے منظور کیے گئے اپاچی ہیلی کاپٹر سپورٹ سروسز اور آلات کے اس نئے ٹھیکے کی کل مالیت 19 کروڑ 82 لاکھ ڈالر ہے۔
مرکزی امریکی کنٹریکٹرز
اس ہائی ٹیک منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے امریکا کی مایہ ناز اور دنیا کی سب سے بڑی دفاعی کمپنیاں ’بوئنگ‘ اور ’لاک ہیڈ مارٹن‘ مرکزی کنٹریکٹرز کے طور پر کام کریں گی۔
سپورٹ سروسز کا دائرہ کار
بین الاقوامی دفاعی رپورٹس کے مطابق اس 19 کروڑ 82 لاکھ ڈالر کے پیکیج میں بھارتی ہوابازوں اور عملے کے لیے جدید ترین عسکری ٹریننگ (تربیت)، سمیولیشن سسٹمز، ہیلی کاپٹرز کی اوور ہالنگ اور مینٹیننس (دیکھ بھال)، جدید اسپیئر پارٹس اور دیگر پیچیدہ تیکنیکی لاجسٹک سروسز شامل ہیں۔
بھارت کا موجودہ جنگی بیڑا
عسکری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کے پاس اس وقت مجموعی طور پر 28 اپاچی لڑاکا ہیلی کاپٹر موجود ہیں، جن میں سے 22 ہیلی کاپٹرز بھارتی فضائیہ اور 6 ہیلی کاپٹرز بھارتی زمینی فوج کی ایوی ایشن کور کے پاس ہیں۔
الٹرا لائٹ ہووٹزر سپلائی ڈیل
اپاچی ہیلی کاپٹرز کے علاوہ، امریکی محکمۂ خارجہ نے بھارت کے لیے ‘ایم 777’ الٹرا لائٹ ہووٹزر توپوں کے سپورٹ سسٹمز کی بھی منظوری دی ہے، جس کی کل مالیت 23 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔
اگر ان دونوں عسکری سودوں کو جمع کیا جائے تو امریکا کی جانب سے ایک ہی وقت میں بھارت کے لیے مجموعی طور پر 42 کروڑ 82 لاکھ ڈالر (تقریباً 43 کروڑ ڈالر) کے بھاری دفاعی پیکیج کی منظوری دی گئی ہے۔
چین بھارت سرحدی تنازع اور امریکا کا ’انڈو پیسیفک‘ اسٹریٹجک کارڈ
اس بڑے دفاعی پیکیج کا پس منظر گزشتہ چند سالوں سے جاری پاک بھارت کشیدگی اور بالخصوص لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر چین اور بھارت کے مابین جاری شدید سرحدی تنازع سے جڑا ہوا ہے۔
واشنگٹن کی اسٹرٹیجک پالیسی کا طویل مدتی ہدف خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اور عسکری اثر و رسوخ کو روکنا ہے اور اس مقصد کے لیے امریکا ’انڈو پیسیفک اسٹریٹجی‘ کے تحت بھارت کو خطے کے ’تھانیدار‘ کے طور پر تیار کر رہا ہے۔
ماضی میں بھارت نے امریکا سے 22 اپاچی ہیلی کاپٹرز خریدے تھے اور بعد میں مزید 6 ہیلی کاپٹرز کا سودا کیا گیا، جن کا بنیادی مقصد لداخ اور ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں میں چین اور پاکستان کی سرحدوں پر فضائی برتری حاصل کرنا تھا۔
اسی طرح 23 کروڑ ڈالر مالیت کی الٹرا لائٹ ہووٹزر توپیں بھی ہلکے وزن کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں پوزیشن تبدیل کرنے کے لیے بہترین مانی جاتی ہیں۔ چونکہ یہ مہنگے ترین جنگی ہتھیار بغیر اسپیئر پارٹس، مسلسل تیکنیکی مدد اور امریکی سوفٹ ویئر اپ ڈیٹس کے ناکارہ ہو جاتے ہیں، اس لیے امریکا اب بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن کے ذریعے ان کی جنگی حالت (کامبیٹ ریڈینس) کو سو فیصد برقرار رکھنے کے لیے یہ نئی لاجسٹک ڈیل لے کر آیا ہے۔
جنوبی ایشیا کا سیکیورٹی توازن اور پاکستان کے خدشات
واضح رہے کہ امریکا کا بھارت کو مسلسل جدید ترین عسکری آلات اور سپورٹ سروسز فراہم کرنا جنوبی ایشیا کے روایتی دفاعی توازن (ڈیٹرنس توازن) کو شدید متاثر کرنے کا باعث بن رہا ہے۔
امریکا کی پالیسی
ایک طرف امریکا دنیا بھر میں امن، ہتھیاروں کی دوڑ میں کمی اور علاقائی استحکام کی بات کرتا ہے، تو دوسری طرف وہ بھارت جیسے انتہا پسند ملک کو 42 کروڑ 82 لاکھ ڈالر کے جنگی آلات فروخت کر کے خطے میں ہتھیاروں کی ایک نئی اور خطرناک دوڑ شروع کروا رہا ہے۔
پاکستانی سرحدوں پر بھارت اشتعال انگزیاں
اگرچہ امریکا ان سودوں کو چین کے خلاف سٹرٹیجک تیاری کا نام دیتا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے ہمیشہ اپنے امریکی و مغربی ہتھیاروں کا رخ پاکستان کی سرحدوں کی طرف ہی موڑا ہے۔ 28 اپاچی ہیلی کاپٹرز کا بیڑا اگر امریکی ٹریننگ اور لاک ہیڈ مارٹن کی تیکنیکی مدد سے ہر وقت حملے کے لیے تیار رہے گا، تو یہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ باؤنڈری پر پاکستان کی دفاعی فورسز کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔
روس اور امریکا کی کھینچا تانی میں بھارت کا فائدہ
بھارت اس وقت دنیا کا واحد ملک بن چکا ہے جو ایک طرف روس سے ‘ایس 400’ میزائل سسٹم اور سستے پیٹرول کے فائدے اٹھا رہا ہے اور دوسری طرف امریکا سے اپاچی ہیلی کاپٹرز اور ہووٹزر توپوں کی تکنیکی سروسز حاصل کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ پنٹاگون کی اس اندھی حمایت نے مودی سرکار کے جنگی جنون کو مزید بڑھا دیا ہے، جو کسی بھی وقت خطے کو ایک بڑی مہم جوئی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
پاکستان کو اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے دیرینہ شراکت دار چین کے ساتھ مل کر ڈرونز اور اینٹی ہیلی کاپٹر گائیڈڈ میزائل سسٹمز (ایئر ڈیفنس) کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔