انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں مقامی عدالت نے ملزمہ کے جوڈیشل ریمانڈ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
سیشن عدالت جنوبی میں انمول عرف پنکی اور اس کے شریک ملزمان کے خلاف گارڈن تھانے میں درج مقدمے کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ڈیوٹی مجسٹریٹ نے ایک مقدمے میں ملزمہ انمول کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا جبکہ دیگر مقدمات میں اسے جیل کسٹڈی میں بھیج دیا گیا۔
تفتیشی افسر کے مطابق ڈیوٹی مجسٹریٹ وسطی نے منشیات کے دوسرے مقدمے میں بھی ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ دیا تھ، تاہم شریک ملزمان ذیشان اور سہیل کو گرفتار کرنے کے باوجود ان کا جسمانی ریمانڈ منظور نہیں کیا گیا۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ دونوں ملزمان سے برآمد موبائل فونز سے اہم شواہد حاصل ہوئے ہیں اور مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈیوٹی مجسٹریٹ نے ملزمہ انمول سے متعلق متضاد اور کنفیوژنگ حکم جاری کیا جو غیر قانونی اقدام کے مترادف ہے لہٰذا ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ شریک ملزمان کے موبائل فونز پہلے ہی بطور شواہد تحویل میں لیے جا چکے ہیں اس لیے فرانزک اور آن لائن ویریفکیشن کے لیے ملزمان کی جسمانی کسٹڈی ضروری نہیں۔
جج نے قرار دیا کہ شریک ملزمان کے ریمانڈ سے متعلق نظرِ ثانی کی درخواست میرٹ پر پوری نہیں اترتی اس لیے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے فیصلے میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے تفتیشی افسر کی نظرِ ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔