عالمی صرافہ مارکیٹ میں بدھ کے روز سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور ٹریژری بانڈز کی ییلڈ میں اضافہ قرار دی جا رہی ہے۔
تازہ رپورٹ کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد 4 ہزار 467 اعشاریہ 59 ڈالر فی اونس تک آ گئی جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی 0.9 فیصد کمی دیکھی گئی اور قیمت 4 ہزار 471 اعشاریہ 10 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ سیشن میں بھی سونا مارچ کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔
سرمایہ کاروں کی توجہ محفوظ سرمایہ کاری سے ہٹ کر زیادہ منافع دینے والے اثاثوں کی جانب منتقل ہو رہی ہے جس کے باعث سونے کی طلب متاثر ہوئی ہے
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر اس وقت چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر برقرار ہے جس کے باعث دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سونا مہنگا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ بھی ایک سال سے زائد کی بلند سطح پر مستحکم ہے جس سے سونے جیسے بغیر منافع والے اثاثوں کی کشش مزید کم ہو رہی ہے۔
ادھر امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے متضاد بیانات بھی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔
فیڈرل ریزرو حکام کے مطابق شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے سے مہنگائی پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے، تاہم سرمایہ کار اب اس خدشے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آئندہ مہینوں میں شرح سود مزید بڑھ سکتی ہے۔ مارکیٹ کی نظریں اب فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس کے منٹس پر مرکوز ہیں۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 0.8 فیصد کمی کے بعد 73 اعشاریہ 22 ڈالر فی اونس رہی، پلاٹینم میں 0.5 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ پیلیڈیم کی قیمت میں 0.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا