بارہویں جماعت کے امتحانات شروع، دفعہ 144 نافذ

بارہویں جماعت کے امتحانات شروع، دفعہ 144 نافذ

لاہور سمیت صوبائی دارالحکومت کے تعلیمی حلقوں سے ایک انتہائی اہم اور بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ تعلیمی بورڈ لاہور (بی آئی ایس ای لاہور) کے زیرِ اہتمام انٹرمیڈیٹ (بارہویں جماعت) کے سالانہ امتحانات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

امتحان کے پہلے روز شیڈول کے مطابق سائیکالوجی (نفسیات)، آؤٹ لائن آف ہوم اکنامکس اور اپلائیڈ سائنسز کے پرچوں (پیپرز) کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں میٹرک سالانہ امتحانات کے نتائج کی تاریخ سامنے آگئی

بورڈ انتظامیہ کی جانب سے امتحانی عمل کو شفاف بنانے، بوٹی مافیا کو لگام ڈالنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت تمام امتحانی مراکز کی حدود میں دفعہ 144 نافذ کر دی گی ہے۔

امیدواروں، مراکز اور امتحانی شیڈول

لاہور بورڈ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ڈیٹ شیٹ اور امتحانی خاکہ کے مطابق انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو (بارہویں جماعت) کے امتحان میں اس سال مجموعی طور پر 1 لاکھ 92 ہزار (192,000) باقاعدہ (ریگولر) اور پرائیویٹ امیدوار شرکت کر رہے ہیں۔

امتحانی مراکز کی تشکیل

لاہور اور اس کے ملحقہ اضلاع میں طلبہ کی سہولت کے لیے کل 566 امتحانی مراکز (سنٹرز) تشکیل دیے گئے ہیں۔

حساس سنٹرز کی ڈیجیٹل نگرانی

امتحانی مراکز میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بورڈ نے 54 سنٹرز کو ’حساس‘ قرار دیا ہے، جہاں نقل کی روک تھام اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی پر نظر رکھنے کے لیے ہائی ڈیفینیشن سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر کے ان کی لائیو مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

عید کی تعطیلات

 تعلیمی بورڈ کی آفیشل ڈیٹ شیٹ کے مطابق، امتحانات کے دوران 26 مئی سے 31 مئی تک عید کی چھٹیاں ہوں گی، جس کے دوران کوئی پیپر نہیں لیا جائے گا۔

پارٹ ٹو کا اختتام

 بارہویں جماعت (انٹر پارٹ ٹو) کا آخری پیپر 12 جون کو لازمی مضمون مطالعہ پاکستان کا لیا جائے گا۔ انٹرمیڈیٹ پارٹ ون (گیارہویں جماعت) کے امتحانات کا آغاز 15 جون سے ہوگا اور پارٹ ون کا آخری پیپر 8 جولائی کو منعقد کیا جائے گا۔

پریکٹیکل امتحانات کا شیڈول

تحریری امتحانات کے فوری بعد، 10 جولائی سے 18 اگست تک انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے عملی (پریکٹیکل) امتحانات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

تعلیمی بورڈز کی ری اسٹرکچرنگ اور دفعہ 144 کا نفاذ

اس سال لاہور بورڈ کے تحت ہونے والے امتحانات کا پس منظر پنجاب حکومت اور محکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے امتحانی نظام میں کی جانے والی وسیع تر اصلاحات سے جڑا ہوا ہے۔

ماضی میں امتحانی مراکز کے باہر دفعہ 144 کے باوجود بوٹی مافیا، نقل کے مواد کی منتقلی اور موبائل فونز کے ذریعے پیپر آؤٹ ہونے کے متعدد اسکینڈلز سامنے آتے رہے ہیں، جس سے لائق اور محنتی طلبہ کی حق تلفی ہوتی تھی۔

ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے امسال لاہور انتظامیہ نے امتحانی مراکز کے گرد 100 میٹر کے احاطے میں دفعہ 144 نافذ کر کے غیر متعلقہ افراد کے داخلے، فوٹو اسٹیٹ دکانوں کے کھلنے اور پبلک گیدرنگ پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔

دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کو موقع پر گرفتار کرنے کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں بھی گشت پر مامور ہیں۔ مزید برآں عید کی چھٹیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ڈیٹ شیٹ کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے تاکہ طلبہ پر پڑھائی کا ذہنی دباؤ بھی کم ہو اور وہ تہوار بھی منا سکیں۔

ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور مستقبل کے تعلیمی اثرات

لاہور بورڈ کا 1 لاکھ 92 ہزار امیدواروں کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر فول پروف امتحانی نظام وضع کرنا ایک قابلِ تحسین اقدام ہے، 54 حساس امتحانی مراکز پر سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مانیٹرنگ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بورڈ اب روایتی چھاپہ مار ٹیموں (وجیلنس اسکواڈز) پر انحصار کم کر رہا ہے۔

کیمروں کی موجودگی سے امتحانی عملے (نگرانوں) پر بھی دباؤ رہتا ہے کہ وہ کسی قسم کی بدعنوانی یا نقل کی سہولت کاری کا حصہ نہ بنیں۔ یہ ڈیجیٹل نگرانی صوبے میں میرٹ کے کلچر کو فروغ دے گی اور اعلیٰ نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کی ساکھ بحال ہوگی۔

طویل امتحانی شیڈول کا چیلنج

ڈیٹ شیٹ کے مطابق یہ پورا عمل (پارٹ ٹو، پارٹ ون اور پریکٹیکلز) مئی سے شروع ہو کر 18 اگست تک جائے گا۔ مئی، جون اور جولائی کے مہینوں میں پنجاب میں شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے مسائل عروج پر ہوتے ہیں۔

بورڈ انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج 566 امتحانی مراکز میں طلبہ کے لیے پینے کے ٹھنڈے پانی اور بجلی کے متبادل ذرائع (یو پی ایس یا جنریٹر) کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ شدید گرمی کے باعث طلبہ کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر حکومت ان بنیادی سہولیات کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، تو یہ سیشن لاہور بورڈ کی تاریخ کا کامیاب ترین سیشن ثابت ہوگا۔

Related Articles