لندن ( اظہر جاوید ) لندن میں غزہ جانے والے امدادی قافلے کے مغوی اراکین کے اہل خانہ کا برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مغویوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور مغوی افراد کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جن میں برٹش پاکستانی سعد ایدھی کی تصاویر بھی شامل تھیں۔
احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ فریڈم فلوٹیلا کے اراکین اسلحہ نہیں بلکہ غزہ کے متاثرین کیلئے امدادی سامان لے کر جا رہے تھے، اس کے باوجود انہیں روک کر حراست میں لیا گیا۔ مظاہرین نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر سفارتی دباؤ بڑھا کر مغویوں کی رہائی یقینی بنائے۔
مغویوں میں کنگز کالج کے عملے سے وابستہ حسنین جعفر بھی شامل ہیں۔ ان کے والد جعفر تسلیم نے حکومت پاکستان اور برطانوی حکام سے اپیل کی کہ وہ انسانی بنیادوں پر فوری اقدامات کریں اور مغویوں کی بحفاظت واپسی ممکن بنائیں۔
مظاہرین نے کہا کہ برطانوی بحریہ دنیا کی بہترین بحری قوتوں میں شمار ہوتی ہے اس لیے حکومت اپنے شہریوں اور امدادی کارکنوں کو واپس لانے کیلئے مؤثر کردار ادا کرے۔ احتجاج کے دوران شرکا نے غزہ کے عوام سے اظہارِ یکجہتی بھی کیا اور عالمی برادری سے انسانی بحران روکنے کیلئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔