انمول پنکی کے سہولت کارکون ہیں ؟ ایڈیشنل آئی جی کراچی کا بیان سامنے آگیا

انمول پنکی کے سہولت کارکون ہیں ؟ ایڈیشنل آئی جی کراچی کا بیان سامنے آگیا

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کا کہنا ہے کہ انمول پنکی ایک چالاک ملزمہ ہے، ملزمہ انمول کے پیچھے کون ہے اور اس کے سہولتکار کوں کون لوگ ہیں یہ بات تفتیش مکمل ہونے تک نہیں بتاسکتے ۔ 

تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے انمول عرف پنکی کیس کے حوالے سے اہم گفتگو کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی سنگین سماجی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک عام جرم نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کا معاملہ ہے، اور پولیس اس کیس کی تفتیش بغیر کسی دباؤ کے مکمل میرٹ پر کر رہی ہے۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی نے ملزمہ کے وکیل کی جانب سے کیے جانے والے تمام دعووں کی تردید کرتے کہا ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ نہ لینے کے لیے اس کے وکیل نے عدالت میں بہت سی باتیں کیں اور جج کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن وکیل نے عدالت میں جو بھی باتیں کیں، ان کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ کہ کیس کی انکوائری ابھی بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے ،کیس میں ابھی تفتیش کا آغاز کیا گیا ہے جسے مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :انمول پنکی کیس میں اہم پیش رفت، عدالت نے بڑا حکم دے دیا

انہوں نے کہا کہ تفتیش مکمل ہونے سے پہلے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ ملزمہ انمول کے پیچھے کون ہے اور کون اس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔”

ایڈیشنل آئی جی نے پولیس پر دباؤ سے متعلق واضح کیا کہ پولیس پر ملزمہ انمول سے متعلق کسی قسم کا کوئی سیاسی یا انتظامی دباؤ نہیں ہے تاہم تفتیش کے دوران جو بھی حقائق یا بااثر نام سامنے آئیں گے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی ،کسی کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔

آزاد خان نے انکشاف کیا کہ ملزمہ کی عدالت میں پیشی کے معاملے پر سیکیورٹی یا انتظامی غفلت سامنے آنے پر محکمہ جاتی کارروائی کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عدالت پیشی کے معاملے پر متعلقہ ایس ایس پی ، ایس ایچ او اور انویسٹی گیشن آفیسر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا چکی ہے تاکہ تفتیش کی شفافیت پر کوئی حرف نہ  آئے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی اجلاس میں انمول پنکی کیس میں ایڈیشنل آئی جی پنجاب اور ایڈیشنل پولیس چیف سندھ کو انکوائری کرنے کا حکم دیا گیا، چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ جو لوگ بھی اس معاملے میں ملوث ہیں، ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، چیئرمین کمیٹی کے مطابق مکمل انکوائری رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔

editor

Related Articles