ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایرانی سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای نے اعلیٰ افزودہ یورینیم ملک سے باہر نہ بھیجنے کا حکم جاری کر دیا ہے جس کے بعد خطے میں جاری سفارتی اور جوہری مذاکرات مزید پیچیدہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی قیادت نے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملک کا افزودہ یورینیم بیرونِ ملک منتقل نہیں کیا جائے گا۔ ۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر افزودہ یورینیم بیرونِ ملک بھیجا گیا تو ایران دفاعی اور سفارتی سطح پر کمزور ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایرانی قیادت اس معاملے پر سخت حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق امریکا نے ایران کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس میں منجمد اثاثوں کی بحالی، محدود سطح پر یورینیم افزودگی کی اجازت اور ایرانی تیل کی فروخت میں نرمی جیسے نکات شامل ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں استحکام بحال کرنے کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے کچھ مثبت آثار موجود ہیں تاہم ابھی کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا کے پاس دیگر راستے بھی موجود ہیں۔