ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج ہر ممکن صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف دشمنی کی جرات کرنے والوں کو سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ عالمی برادری کو بربریت اور تسلط کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ دنیا لاقانونیت اور عدم استحکام کی طرف جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال محض علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی تناظر کی عکاس ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 28 فروری کو ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ محض وسائل یا زمین کا تنازع نہیں بلکہ یہ اچھائی اور برائی کے عالمی مفہوم کو متاثر کرنے والی جنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں جن پر بعض فریق خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران ایک پرامن قوم ہے جو اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسے عناصر موجود ہیں جو جنگ کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اصل فرق جارحیت اور دفاع کے درمیان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں خاموشی بھی غلط اقدامات کی حمایت کے مترادف ہو سکتی ہے، اس لیے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی برکس اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کریں گے، جہاں عالمی اور علاقائی صورتحال پر اہم مشاورت متوقع ہے۔