ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا نے پاکستان کے ذریعے ایران کے 14 نکاتی امن منصوبے کا جواب دے دیا ہے، جبکہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کے جوہری مذاکرات جاری نہیں ہیں۔
اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کیا گیا 14 نکاتی منصوبہ مکمل طور پر جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر مرکوز ہے۔ تہران اس وقت امریکی جواب کا بغور جائزہ لے رہا ہے تاہم کسی باضابطہ جوہری مذاکرات کا آغاز نہیں ہوا۔
اس سے قبل پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی تصدیق کی تھی کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی تجاویز پاکستان کے حوالے کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تجاویز کا مقصد خطے میں جاری “مسلط کردہ جنگ” کا مستقل خاتمہ ہے اور اس پورے عمل میں پاکستان ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان کی میزبانی اور مثبت کردار کے شکر گزار ہیں‘، ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کا پیغام
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے اور کسی دباؤ میں آ کر قومی مفادات یا دفاعی پالیسی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار مکمل طور پر امریکا کے رویے پر ہے اور اگر واشنگٹن سنجیدگی دکھاتا ہے تو پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران کا یہ امن منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو کھولنے ناکہ بندی ختم کرنے اور سمندری بارودی سرنگوں کو ہٹانے کی تجاویز شامل ہیں جبکہ 30 دن کے اندر جنگ کے خاتمے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں یورینیم افزودگی کو محدود سطح پر لانے اور ایران کے جوہری ڈھانچے کے تحفظ کی ضمانت شامل ہے ساتھ ہی منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی بھی اس کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے آگے پہنچائے گا ، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
تیسرے اور آخری مرحلے میں خطے کے ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک مشترکہ سکیورٹی نظام کے قیام کی تجویز دی گئی ہے جو طویل المدتی استحکام کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

