’کاغذی کرنسی، ڈالر الوداع‘ چین اپنا خزانہ سونے سے بھرنے لگا، گولڈ کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ بھی سامنے آگئی

’کاغذی کرنسی، ڈالر الوداع‘ چین اپنا خزانہ سونے سے بھرنے لگا، گولڈ کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ بھی سامنے آگئی

عالمی معیشت میں اپنی بالادستی کو مزید مستحکم کرنے اور امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے چین نے ایک بار پھر بڑا قدم اٹھایا ہے۔

چین کے مرکزی بینک، پیپلز بینک آف چائنا نے مئی کے مہینے میں بھی سونے کی بڑے پیمانے پر خریداری کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جس کے بعد اس کی مسلسل خریداری کا یہ تاریخی سلسلہ 19ویں مہینے میں داخل ہو گیا ہے۔

مشہور اقتصادی جریدے ’بلومبرگ‘ کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق، پیپلز بینک آف چائنا نے صرف مئی کے مہینے میں 320000 ٹرائے اونس سونا خریدا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمتیں ریورس گیئر میں لگ گئیں، فی تولہ بڑی کمی

اس تازہ ترین خریداری کے بعد چین کے مجموعی گولڈ ریزروز (سونے کے ذخائر) تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ 2015 کے بعد سے اب تک کا طویل ترین مسلسل خریداری کا ریکارڈ ہے، جب سے چینی مرکزی بینک نے اپنے سونے کے ذخائر کی ماہانہ تفصیلی رپورٹنگ کا باقاعدہ آغاز کیا تھا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور حالیہ دباؤ کے باوجود چین کا مسلسل سونا خریدنا اس کی ایک گہری اور طویل مدتی اقتصادی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

 چین اس وقت اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ عالمی اقتصادی بحران یا امریکی پابندیوں کے اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

عالمی مالیاتی رپورٹ کے مطابق  اگرچہ حالیہ عرصے میں سود کی شرح میں اضافے اور دیگر عالمی عوامل کی وجہ سے سونے کی قیمتیں دباؤ کا شکار رہی ہیں، لیکن چین کی اس جارحانہ خریداری نے مارکیٹ کو ایک واضح اور مضبوط سگنل دیا ہے۔

اس اقدام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کے بڑے مرکزی بینک اب بھی سونے کو سب سے محفوظ اثاثہ تسلیم کرتے ہیں۔ چینی مرکزی بینک کی اس پالیسی کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف عالمی سطح پر سونے کی طلب کو سہارا دے رہی ہے بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مستقبل میں قیمتوں کے رجحان کا رخ متعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:سونے کی قیمت کو ریورس گیئر لگ گیا،فی تولہ قیمت میں بڑی کمی

گزشتہ چند سالوں میں عالمی جیو پولیٹکس (جغرافیائی سیاست) میں تیزی سے تبدیلیاں آئی ہیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد جب امریکہ اور مغربی ممالک نے روس کے ڈالر میں موجود اثاثوں کو منجمد کیا، تو دنیا بھر کے مرکزی بینکوں، خصوصاً چین، روس اور بھارت کو یہ احساس ہوا کہ صرف امریکی ڈالر پر بھروسہ کرنا مستقبل کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

چین نے 2015 سے اپنے سونے کے ذخائر کو ظاہر کرنے کا شفاف نظام اپنایا تھا۔ اس سے قبل چین برسوں تک اپنی سونا خریدنے کی پالیسی کو خفیہ رکھتا تھا۔ موجودہ 19 مہینوں کا تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ چین اب اپنی معیشت کو ‘ڈی ڈالرائزیشن’ یعنی ڈالر کے اثر و رسوخ سے پاک کرنے کی طرف تیزی سے گامزن ہے، اور وہ اپنے کھربوں ڈالر کے ذخائر کو کاغذی کرنسی سے حقیقی اثاثوں (سونے) میں منتقل کر رہا ہے۔

چینی مرکزی بینک کے اس اقدام کا اگر گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو اس کے 3 بڑے معاشی پہلو سامنے آتے ہیں

ڈالر کے ہتھیار کے خلاف ڈھال

چین تائیوان کے معاملے اور امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ کے پیشِ نظر خود کو محفوظ کر رہا ہے۔ اگر مستقبل میں امریکا چین پر اقتصادی پابندیاں لگاتا ہے، تو سونے کے یہ ذخائر چین کو عالمی تجارت جاری رکھنے میں مدد دیں گے، کیونکہ سونے کو منجمد کرنا یا بین الاقوامی نظام سے باہر نکالنا کسی بھی ملک کے لیے ممکن نہیں ہے۔

یوان کی عالمی ساکھ میں اضافہ

 چین اپنے متبادل مالیاتی نظام کو فروغ دے رہا ہے۔ جب چین کی پشت پر سونے کے اتنے بڑے ذخائر ہوں گے، تو دنیا بھر کے دیگر ممالک کا چینی کرنسی ’یوان‘ پر اعتماد بڑھے گا، جس سے یوان کو عالمی تجارتی کرنسی کے طور پر قبول کروانے میں آسانی ہوگی۔

عالمی منڈی پر اثرات

عام طور پر جب سونا مہنگا ہو یا عالمی مارکیٹ دباؤ میں ہو تو خریدار رک جاتے ہیں، لیکن چین کا مسلسل 320000 ٹرائے اونس سونا خریدنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ چین قیمت نہیں دیکھ رہا بلکہ اثاثے کی موجودگی کو اہمیت دے رہا ہے۔ یہ عمل عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں کو ایک مستقل ‘فلور’ یعنی سہارا فراہم کرتا رہے گا، جس سے قیمتیں ایک حد سے نیچے نہیں گریں گی۔

Related Articles