کوئٹہ چمن پھاٹک دھماکہ، حکومتِ بلوچستان کا گہرے دکھ کا اظہار، اسپتالوں میں طبی ایمرجنسی، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی صورتحال کی خود نگرانی کرنے رہے ہیں، شاہد رند

کوئٹہ چمن پھاٹک دھماکہ، حکومتِ بلوچستان کا گہرے دکھ کا اظہار، اسپتالوں میں طبی ایمرجنسی، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی صورتحال کی خود نگرانی کرنے رہے ہیں، شاہد رند

حکومتِ بلوچستان نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے حالیہ افسوسناک اور بزدلانہ دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے پر گہرے دکھ اور رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شاہد رند نے صوبائی حکومت کی جانب سے باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کی اس کارروائی میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی سفاکانہ فعل ہے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر پوری صوبائی قیادت دل گرفتہ ہے۔

انہوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ امن و امان کو سبوتاژ کرنے والے یہ دہشت گرد عناصر کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب سیکیورٹی اداروں کی کڑی نگرانی اور بروقت کارروائی، جعفر ایکسپریس بڑے سانحے سے بچ گئی

ترجمانِ حکومتِ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی چمن پھاٹک دھماکے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی خود براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جائے وقوعہ سے تمام شواہد اکٹھے کر کے واقعے کی ہر پہلو سے انکوائری کریں۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث سہولت کار اور اصل عناصر کسی صورت قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے، انہیں جلد عبرت کا نشانہ بنایا جائے گا۔

معاونِ خصوصی شاہد رند نے مزید بتایا کہ دھماکے کے فوراً بعد کوئٹہ کے تمام سرکاری اسپتالوں بالخصوص سول اسپتال اور بی ایم سی میں فوری طور پر ’طبی ایمرجنسی‘ نافذ کر دی گئی ہے۔

سیکریٹری صحت کی ہدایت پر تمام ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی عملے کو ہنگامی بنیادوں پر چھٹیاں منسوخ کر کے ڈیوٹیوں پر طلب کر لیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

مزید پڑھیں:کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکا، 24 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی

شاہد رند نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو فوری طبی امداد دی جا رہی ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے انہیں علاج معالجے کی بہترین اور مفت سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

بلوچستان میں امن و امان کا قیام اور سرفراز بگٹی انتظامیہ کے چیلنجز

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی، جو ماضی میں صوبائی وزیر داخلہ کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں، دہشتگردی کے خلاف ایک سخت اور واضح مؤقف رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی حکومت کا اولین ایجنڈا بلوچستان میں امن و امان کی بحالی، سی-پیک منصوبوں کا تحفظ اور پاک-افغان بارڈر سے منسلک تجارتی راستوں (جیسے چمن روڈ) کو محفوظ بنانا ہے۔

کوئٹہ کا چمن پھاٹک علاقہ انتہائی حساس ہے کیونکہ یہ افغانستان جانے والی ریلوے لائن اور شاہراہ کا کلیدی حصہ ہے۔ عسکریت پسند اکثر ایسے مقامات کو چنتے ہیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر دیا جا سکے کہ بلوچستان کا بنیادی مواصلاتی نظام محفوظ نہیں ہے۔

حکومتِ بلوچستان نے حالیہ مہینوں میں دہشتگردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر انٹیلیجنس آپریشنز کیے ہیں، جس کی وجہ سے بوکھلاہٹ میں آکر اب یہ عناصر شہری آبادیوں اور عوامی گزرگاہوں کو نرم ہدف بنا رہے ہیں۔ سرفراز بگٹی انتظامیہ کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج کوئٹہ شہر کے اندر داخل ہونے والے نیٹ ورکس اور ان کے مقامی سہولت کاروں کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے۔

صوبائی حکومت کا فوری ردِعمل اور انتظامی حکمتِ عملی

میر سرفراز بگٹی کا خود صورتحال کو مانیٹر کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ صوبائی حکومت سیکیورٹی کے معاملے پر کسی قسم کی سستی یا بیوروکریٹک تاخیر برداشت نہیں کرے گی۔ اس سے سیکیورٹی اداروں اور انتظامیہ کا مورال بلند ہوتا ہے اور فیصلوں میں تیزی آتی ہے۔

ہیلتھ کیئر سسٹم کا فوری رسپانس

دھماکے کے فوری بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی کا نفاذ اور عملے کی ہنگامی طلبی صوبائی ہیلتھ مینجمنٹ کی چستی کا ثبوت ہے۔ کوئٹہ میں ماضی کے واقعات کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے، طبی عملے کا الرٹ ہونا زخمیوں کی جانیں بچانے میں سب سے اہم عنصر ثابت ہوتا ہے۔

دہشت گردوں کے لیے زیرو ٹالرینس

شاہد رند کا یہ بیان کہ ’دہشت گرد عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں‘، یہ واضح اشارہ ہے کہ حکومت اب مفاہمت کے بجائے مکمل طور پر جارحانہ حکمتِ عملی اپنائے گی۔ اب تحقیقات کا رخ ان نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے کی طرف ہوگا جو شہر کے اندر بارود پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔

عوامی اعتماد کی بحالی

 زخمیوں کو بہترین اور فوری علاج کی فراہمی کی یقین دہانی کے ذریعے حکومت عوام اور متاثرہ خاندانوں میں عدم تحفظ کے احساس کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو کہ کسی بھی بحران کے بعد گڈ گورننس کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔

Related Articles