کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب سیکیورٹی اداروں کی کڑی نگرانی اور بروقت کارروائی، جعفر ایکسپریس بڑے سانحے سے بچ گئی

کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب سیکیورٹی اداروں کی کڑی نگرانی اور بروقت کارروائی، جعفر ایکسپریس بڑے سانحے سے بچ گئی

کوئٹہ چمن پھاٹک میں سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی اور کڑی نگرانی کے باعث جعفر ایکسپریس ایک بڑے سانحے سے بچ گئی۔ پولیس حکام کے مطابق شرپسند عناصر اور مبینہ دہشتگرد کوئٹہ چمن پھاٹک کے قریب ٹرین کو نشانہ بنانا چاہتے تھے تاہم وہ اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کوئٹہ چمن پھاٹک کے قریب ریلوے اسٹیشن کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور اداروں کی مستعدی کے باعث دہشتگرد ٹرین کو براہِ راست نشانہ نہ بنا سکے۔ حکام کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ خودکش حملہ تھا یا بارودی مواد نصب کیا گیا تھا۔

دھماکہ جعفر ایکسپریس کے قریب ہوا جس کے نتیجے میں ٹرین کی ایک بوگی کو نقصان پہنچا اور اس کے قریب بھڑک اٹھی۔ ابتدائی اطلاعات میں دھماکے کے باعث کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق دھماکے سے ٹرین کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ قریب موجود 4 گاڑیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ واقعے کے بعد امدادی ٹیمیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔

دوسری جانب، دھماکے کے بعد سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

اتوار کی صبح چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے اس دھماکے کی آواز اتنی شدید تھی کہ اس کی گونج دور دور تک سنی گئی، جس کے باعث پورے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے۔

یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ خودکش دھماکہ: علماء کرام کا شدید ردعمل، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز، پولیس کی بھاری نفری اور امدادی ٹیمیں (ایمبولینسز) فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دی گئیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اصل نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ کوئی دہشتگردی کی کارروائی تھی، پلانٹڈ بم تھا یا خود کش دھماکہ تھا۔ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال اور آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی ٹیموں کو بھی فوری طور پر طلب کر لیا گیا ہے۔

پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے چمن پھاٹک کے اطراف کے تمام راستوں کو سیل کر کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ امدادی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔

کوئٹہ کی سیکیورٹی صورتحال اور حساس تجارتی راستے

کوئٹہ کا چمن پھاٹک اور اس کے ارد گرد کا علاقہ جغرافیائی اور تجارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہ اہم ترین ریلوے اور روڈ لنک ہے جو کوئٹہ کو سرحدی شہر چمن اور وہاں سے آگے افغانستان کے بارڈر سے جوڑتا ہے۔ اس شاہراہ اور ریلوے لائن پر روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں تجارتی گاڑیاں، مال گاڑیاں اور مسافر گزرتے ہیں۔

بلوچستان طویل عرصے سے بیرونی عناصر اور کالعدم تنظیموں کی جانب سے پیدا کردہ سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں اور عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں:کوئٹہ: مغربی بائی پاس پر پولیس وین کے قریب دھماکہ، پولیس اہلکار زخمی

ماضی میں بھی ریلوے ٹریکس اور ان کے قریبی پھاٹکوں پر دھماکوں کے واقعات رونما ہو چکے ہیں تاکہ صوبے کے بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی نظام کو مفلوج کیا جا سکے۔ اس پس منظر میں چمن پھاٹک جیسے حساس مقام پر دھماکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک انتہائی تشویشناک گھنٹی ہے۔

دھماکے سیکیورٹی چیلنجز

اگر یہ دھماکہ سیکیورٹی فورسز یا ریلوے لائن کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے، تو اس کا مقصد واضح طور پر کوئٹہ اور چمن کے درمیان رابطے کو متاثر کرنا ہے، جو کہ پاک افغان تجارت اور سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

سیکیورٹی اداروں کا فوری رسپانس

 پولیس، سیکیورٹی فورسز اور فائر بریگیڈ کا چند منٹوں کے اندر جائے وقوعہ پر پہنچنا اور علاقے کو سیل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ کوئٹہ انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے۔ یہ فوری ایکشن کسی بھی ممکنہ ‘سیکنڈری دھماکے’ (دوسرے حملے) کے خطرے کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

Related Articles