منیٰ میں ایامِ حج کے 5 ویں روز بھی حجاج کرام تینوں جمروں کی رمی کر رہے ہیں، حجاج وقفے وقفے سے اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جمرات آتے ہیں اور تینوں شیطانوں کو سات، سات کنکریاں مارنے کے بعد اپنے خیموں کی جانب لوٹ جاتے ہیں۔
حج کے اہم مناسک کی ادائیگی کے دوران لاکھوں عازمین عبادات میں مصروف ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے رہنمائی اور سہولیات کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔
غروبِ آفتاب سے قبل ہی حجاج وادی منیٰ سے رخصت ہونا شروع ہو جائیں گے جس کے ساتھ ہی چند دنوں کے لیے لاکھوں فرزندانِ اسلام سے آباد ہونے والی عارضی خیمہ بستی آئندہ برس تک کے لیے غیرآباد ہو جائے گی۔
غروب آفتاب سے قبل وادی منیٰ کی حدود سے نکل جانے والے حجاج کو ’متعجلین‘ یعنی جلدی واپسی کرنے والے کہا جاتا ہے، جلد واپسی کرنے والے حجاج مکہ مکرمہ میں اپنی رہائشی عمارتوں میں منتقل ہو جائیں گے جہاں طواف الوداع کرنے کے بعد مقررہ تاریخوں کو ان کی اپنے اپنے ملکوں کو روانگی شروع ہو جائے گی۔
وہ حجاج جو 12 ذوالحج یا تشریق کے دوسرے دن غروب آفتاب کے بعد بھی منیٰ کی حدود میں رہ جائیں گے ان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ تشریق کے تیسرے دن یعنی 13 ذوالحجہ کو بھی تینوں جمرہ کی رمی مکمل کریں اور اس کے بعد واپسی کے سفر کا آغاز کریں۔
اس سال 17 لاکھ سے زائد عازمین نے فریضہ حج ادا کیا ہے، جن کی واپسی کا سلسلہ کل سے شروع ہو جائے گا جبکہ پاکستانی حجاج کرام کی وطن واپسی کا سلسلہ 31 مئی سے شروع ہوگا۔
ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق اکثر حجاج کرام 12 ذی الحجہ کی رمی مکمل کرنے کے بعد منیٰ سے روانہ ہو جائیں گے، جبکہ بعض حجاج کل 13 ذی الحجہ کی اختیاری رمی ادا کرنے کے بعد مکہ مکرمہ جائیں گے۔
حجاج کرام کو ان کی رہائش گاہوں تک محفوظ واپسی کیلئے ناظمین کی نگرانی میں روانہ کیا جا رہا ہے تاکہ رش اور گمشدگی جیسے مسائل سے بچا جا سکے ، حج کے تیسرے فرض طوافِ زیارت کی ادائیگی کا آج آخری دن ہے، جس کے باعث مسجد الحرام میں زائرین کی بڑی تعداد موجود ہے۔
سعودی وزارتِ حج و عمرہ کے خدام الحجاج کو منیٰ کے داخلی و خارجی راستوں پر تعینات کیا گیا ہے تاکہ حجاج کی رہنمائی اور مدد یقینی بنائی جا سکے، بزرگ اور کمزور حجاج کی سہولت کے لیے وہیل چیئر ٹیمیں بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
وزارتِ صحت کی جانب سے حجاج کو مستقل بنیادوں پر ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ دن میں جب گرمی کی شدت ہوتی ہے دھوپ کی تمازت اور لو لگنے سے محفوظ رہنے کے لیے اپنے خیموں میں ہی مقیم رہیں ، باہر نکلتے وقت چھتری اپنے ہمراہ ضرور رکھیں اور پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تاکہ جسم میں پانی کی قلت پیدا نہ ہو۔