عیدالاضحیٰ کے موقع پر ملک بھر میں قربانی کے جانوروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ٹینریز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مجموعی طور پر 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ ہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ سال عیدالاضحیٰ کے دوران 69 لاکھ 77 ہزار 565 جانور قربان کیے گئے تھے، جبکہ اس سال قربانی کے جانوروں کی تعداد میں لاکھوں کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ عوام کے مذہبی جذبے اور مویشی منڈیوں میں جانوروں کی بہتر دستیابی کی عکاسی کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 27 لاکھ 50 ہزار گائیں اور بیل قربان کیے گئے۔ اسی طرح بکرے قربانی کے لیے سب سے زیادہ پسند کیے گئے اور ان کی تعداد 42 لاکھ تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ 5 لاکھ بھیڑیں اور 25 ہزار اونٹ بھی عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربان کیے گئے۔
ٹینریز ایسوسی ایشن نے قربانی کے بعد حاصل ہونے والی کھالوں کی قیمتوں کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بیل اور گائے کی کھال کی اوسط قیمت 2200 روپے رہی، جبکہ بکرے کی کھال 600 روپے میں فروخت ہوئی۔ بھیڑ کی کھال کی قیمت 100 روپے اور اونٹ کی کھال کی قیمت تقریباً 2 ہزار روپے ریکارڈ کی گئی۔
ایسوسی ایشن کے مطابق قربانی کے جانوروں سے حاصل ہونے والی کھالوں کی مجموعی مالیت 8 ارب 67 کروڑ روپے رہی، جو ملکی چمڑا سازی کی صنعت کے لیے ایک اہم معاشی سرگرمی سمجھی جاتی ہے۔ عیدالاضحیٰ کے دوران جمع ہونے والی کھالیں چمڑے کی صنعت کے لیے خام مال کا اہم ذریعہ تصور کی جاتی ہیں اور ان سے وابستہ کاروبار کو بھی فروغ ملتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانوروں کی تعداد میں اضافہ نہ صرف عوامی رجحان کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس سے وابستہ شعبوں، خصوصاً مویشی پالنے والوں، تاجروں اور چمڑا سازی کی صنعت کو بھی معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔