مصر کے مشہور فرعون توتن خامون کے مقبرے سے دریافت ہونے والی ایک پراسرار شے نے ماہرین آثارِ قدیمہ کو کئی دہائیوں تک حیران رکھا۔ یہ ایک لوہے کا خنجر تھا جو فرعون کی ممی کے کپڑوں میں لپٹا ہوا ملا تھا، مگر بعد میں ہونے والی سائنسی تحقیقات نے انکشاف کیا کہ یہ عام لوہے سے نہیں بلکہ ایک شہابیے کے ٹکڑے سے تیار کیا گیا تھا۔
1922 میں برطانوی ماہر آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر نے توتن خامون کے مقبرے کو دریافت کیا تھا۔ مقبرے میں موجود ہزاروں قیمتی نوادرات کے درمیان دو خنجر بھی ملے تھے۔ ان میں سے ایک خالص سونے کا تھا جبکہ دوسرے کی دھار سیاہ رنگ کے لوہے سے بنی ہوئی تھی۔
اس زمانے میں مصر میں لوہا انتہائی نایاب اور قیمتی دھات سمجھا جاتا تھا، کیونکہ قدیم مصری ابھی لوہا پگھلا کر تیار کرنے کی ٹیکنالوجی سے واقف نہیں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ماہرین برسوں تک یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ تقریباً 1323 قبل مسیح میں ایک نوجوان فرعون کے پاس اتنا اعلیٰ معیار کا لوہے کا خنجر کیسے پہنچا۔
بعد ازاں اطالوی اور مصری سائنس دانوں نے جدید ایکس رے فلوروسینس تجزیے کے ذریعے خنجر کا معائنہ کیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس میں نکل، کوبالٹ اور فاسفورس کی مقدار عام زمینی لوہے کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی، جو شہابی لوہے کی نمایاں خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق خنجر کے دھاتی اجزا مصر کے مغربی صحرا میں دریافت ہونے والے ایک شہابی پتھر سے حیران کن حد تک مماثلت رکھتے ہیں۔ اس سے یہ نظریہ مضبوط ہوا کہ خنجر کا لوہا آسمان سے گرنے والے شہابیے سے حاصل کیا گیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم مصری زبان میں لوہے کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح کا مطلب’’آسمان سے آنے والی دھات‘‘ یا ’’جنتی لوہا‘‘تھا۔ طویل عرصے تک ماہرین اس اصطلاح کو محض علامتی یا مذہبی تشبیہ سمجھتے رہے، لیکن توتن خامون کے خنجر نے اس خیال کو تقویت دی کہ قدیم مصری واقعی جانتے تھے کہ بعض لوہا زمین سے نہیں بلکہ آسمان سے آتا ہے۔
توتن خامون کی وفات تقریباً 18 یا 19 برس کی عمر میں ہوئی تھی۔ ان کے مقبرے سے 5 ہزار سے زائد نوادرات برآمد ہوئے، جن میں سونے کے تخت، رتھ اور قیمتی مجسمے شامل تھے۔ تاہم ان تمام خزانوں میں سب سے حیران کن شے شاید وہ خنجر تھا جو ایک ایسے شہابی پتھر سے بنایا گیا تھا جو فرعون کی پیدائش سے ہزاروں سال پہلے زمین پر گرا تھا۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایک مصری فرعون کو 3,300 سال قبل زمین نہیں بلکہ خلا سے آنے والی دھات کے ساتھ دفن کیا گیا تھا، اور اس راز سے دنیا صدیوں تک بے خبر رہی۔