نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ملتان نے خود کو بینک افسر ظاہر کر کے شہریوں سے مالی فراڈ کرنے والے ایک منظم گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ملزمان نے ملتان کے رہائشی سلیم رضا کو فون کالز کے ذریعے دھوکہ دیتے ہوئے خود کو بینک کا نمائندہ ظاہر کیا اور اس سے بینک اکاؤنٹ کی حساس معلومات حاصل کر لیں۔
بعد ازاں ملزمان نے شکایت کنندہ کے اکاؤنٹ سے پانچ لاکھ روپے منتقل کر لیے، مقدمہ نمبر 84/2026 کے تحت کی جانے والی کارروائی میں اختر علی، محمد انور، ارشد محمود، گوہر زیب اور شاہد حسین کو گرفتار کیا گیا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ملزمان کا تعلق پشاور، شورکوٹ، جھنگ اور فیصل آباد سے بتایا جاتا ہے۔ چھاپوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے 6 موبائل فون اور 8 بین الاقوامی سمیں بھی برآمد کی گئیں، جنہیں مبینہ طور پر سائبر فراڈ کی سرگرمیوں میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
ملزمان کے خلاف پیکا ایکٹ 2016 اور تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے ، اس کیس کی تحقیقات ایس ایچ او طاہر محمود کر رہے ہیں۔
ڈائریکٹر این سی سی آئی اے پنجاب محمد علی وسیم نے کامیاب کارروائی پر ملتان ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے متعلقہ افسران اور اہلکاروں کے لیے نقد انعام اور تعریفی اسناد (سرٹیفکیٹس) دینے کا اعلان کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو مالی نقصان پہنچانے والے سائبر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔