کروشیا کے فری ڈائیوروٹومیر مارچیچ نے پانی کے اندر 29 منٹ اور 3 سیکنڈ تک سانس روک کر عالمی سطح پر نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
یہ غیر معمولی کارنامہ کروشیا کے شہر اوپاتیا میں انجام دیا گیا، جہاں ویٹومیر نے کوشش سے قبل 10 منٹ تک خالص آکسیجن لی تاکہ اسٹیٹک اپنیا کے اصول کے مطابق اپنی سانس روکنے کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔
تقریب کے دوران تقریباً 100 افراد نے اس ریکارڈ کو براہ راست دیکھا جبکہ گنیز ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے اس کارکردگی کی باقاعدہ تصدیق بھی کی گئی۔
اس ریکارڈ نے انسانی برداشت اور سانس روکنے کی صلاحیت کو ایک نئے درجے پر پہنچا دیا ہے۔ ویٹومیر کا یہ کارنامہ نہ صرف فری ڈائیونگ کی دنیا میں اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے بلکہ انسانی جسم کی حدوں پر بھی ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا یہ ریکارڈ ڈولفن اور ہاربر سیل جیسے سمندری جانوروں سے بھی زیادہ طویل سانس روکنے کے قریب پہنچ گیا، تاہم یہ اب بھی کوویئر کی چونچ والی وہیل کے مقابلے میں بہت کم ہے، جو تین گھنٹے سے زائد وقت تک پانی کے اندر رہ سکتی ہے۔اس کے باوجود یہ ریکارڈ انسانی صلاحیت، کنٹرول اور تربیت کی ایک غیر معمولی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔