مچھر بھگانے والی دوا سے متعلق حیران کن انکشاف

مچھر بھگانے والی دوا سے متعلق حیران کن انکشاف

ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مچھر صرف ردعمل ظاہر کرنے والے کیڑے نہیں بلکہ سیکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ مچھر بھگانے والی بعض ادویات کی بو کے عادی بھی ہو سکتے ہیں۔

سائنسی جریدے جرنل آف ایکسپیریمنٹ بیالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مچھر ڈیٹ  نامی معروف ریپیلنٹ کی خوشبو کو خون حاصل کرنے کے تجربے سے جوڑنا سیکھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اس بو سے گریز کرنے کے بجائے اس کی طرف راغب بھی ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :فرانس میں ڈپریشن کے علاج کے لیے گدھوں کی مدد، انوکھا طریقہ سامنے آ گیا

ڈیٹ، جس کا مکمل کیمیائی نام این ڈائی ایتھائل میٹا ٹولوامائیڈ  ہے، دنیا بھر میں مچھروں سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والے مقبول ترین اجزا میں شمار ہوتا ہے۔ ماہرین صحت اسے مچھروں کے کاٹنے سے بچنے کے مؤثر طریقوں میں شامل کرتے ہیں۔

فرانس کی یونیورسٹی آف ٹورز کے محقق کلاؤڈیو لزاری کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق میں مچھروں کے رویوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ مچھر مخصوص تجربات کے ذریعے بعض خوشبوؤں کو پہچاننا اور ان سے تعلق قائم کرنا سیکھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :بندر کی شرارت یا قسمت؟ 2 لاکھ روپے لے اڑا

محققین کے مطابق ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ ریپیلنٹس صرف اپنی کیمیائی خصوصیات کی وجہ سے مؤثر ہوتے ہیں، یعنی وہ مچھروں کو دور رکھتے ہیں یا انسانوں کا سراغ لگانے کی ان کی صلاحیت متاثر کرتے ہیں۔ تاہم نئی تحقیق اس تصور کو چیلنج کرتی ہے۔

کلاؤڈیو لزاری کا کہنا ہے کہ مچھروں کا ردعمل صرف کیمیائی اثرات پر منحصر نہیں بلکہ ان کے تجربات اور سیکھنے کے عمل سے بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت مچھر بھگانے والی ادویات کے بارے میں موجود سائنسی معلومات میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے اور مستقبل میں زیادہ مؤثر ریپیلنٹس تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

editor

Related Articles