ملک کے معروف سیاحتی مقام مری کے مضافاتی علاقے کھجٹ میں سیاحوں سے بھری ایک ہائی وین کو انتہائی افسوسناک اور دلخراش حادثہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 8 مسافر شدید زخمی ہو گئے۔
پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق یہ المیہ اس وقت رونما ہوا جب ایک تیز رفتار مسافر وین موڑ کاٹتے ہوئے بے قابو ہو کر سڑک کنارے لگی حفاظتی دیوار (پیرامپٹ وال) سے زوردار طریقے سے ٹکرا گئی۔
ٹکر اتنی شدید تھی کہ گاڑی کے اگلے حصے میں موجود انجن نے فوری طور پر آگ پکڑ لی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری وین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
سب سے زیادہ جانی نقصان وین کا سلائیڈنگ دروازہ لاک ہو جانے اور بروقت نہ کھلنے کی وجہ سے ہوا، جس کے باعث اندر بیٹھے مسافر جھلستی ہوئی گاڑی کے اندر ہی پھنس کر رہ گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مری اور راولپنڈی سے ریسکیو 1122 اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور لاشوں و زخمیوں کو گاڑی کاٹ کر باہر نکالا۔
ڈی پی او (ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر) مری محمد رضا کے مطابق، ابتدائی سائنسی و عینی شاہدین کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حادثہ ڈرائیور کی غفلت اور حد سے زیادہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کی مزید باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں۔
مری وین حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کو وفاقی دارالحکومت کے پمز اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اسپتال انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اب تک چار لاشیں پمز کے مردہ خانے پہنچائی جا چکی ہیں، جہاں ان کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
مری اور اس کے گردونواح کے پہاڑی راستے (بشمول کھجٹ اور جیپ ٹریکس) اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ انتہائی خطرناک تیز موڑ اور ڈھلوانوں کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔
گرمیوں کے سیزن (مئی اور جون) میں ملک بھر سے لاکھوں سیاح ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں، جس کے باعث مقامی اور نجی ٹرانسپورٹرز زیادہ پھیرے لگانے کے چکر میں گاڑیوں کو تیز رفتاری سے چلاتے ہیں اور فٹنس سرٹیفکیٹس کی پرواہ نہیں کرتے۔