کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کی آڈیو کال منظر عام پر آگئی

کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کی آڈیو  کال منظر عام پر آگئی

سوشل میڈیا پر ایک آڈیو کال منظرِ عام پر آنے کے بعد آزاد کشمیر کی سیاسی فضا میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ مذکورہ آڈیو کال کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں شوکت نواز میر اور خواجہ مہران  کی  ہے ۔

کالعدم ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کے کور ممبران شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کے درمیان ہونے والی ایک آڈیو کال لیک ہوگئی ہے، جس میں مختلف علاقوں میں سرگرمیوں، راولاکوٹ کی صورتحال اور سیکیورٹی فورسز کی موجودگی سے متعلق گفتگو سنائی دیتی ہے۔

آڈیو کال کے مطابق شوکت نواز میر، خواجہ مہران سے کہتے ہیں کہ میرپور اور مظفرآباد اس وقت تک فعال نہیں ہو سکتے جب تک مناسب تعداد میں لوگ موجود نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کو لا کر راولاکوٹ، میرپور، کوٹلی یا مظفرآباد میں صرف بٹھا دیا جائے تو اس سے کوئی خاص نتیجہ برآمد نہیں ہوگا، تاہم راولاکوٹ میں پیش آنے والے واقعے کے باعث لوگ کافی مشتعل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ریاست مخالف مسلح حملوں پر بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کا سخت ردعمل

شوکت نواز میر کہتے ہیں کہ جب تک راولاکوٹ میں بڑے پیمانے پر کوئی لڑائی یا تصادم شروع نہیں ہوتا، اس وقت تک میرپور اور مظفرآباد میں کچھ نہیں ہو سکتا۔انہوں نے خواجہ مہران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کام منظم طریقے سے کیا جائے اور کسی بھی اقدام سے قبل فورسز کی تعداد کا اندازہ لگایا جائے۔ آڈیو کے مطابق خواجہ مہران نے جواب دیا کہ فورسز موجود ہیں اور رات کے وقت وہاں پہنچ چکی ہیں۔

اس پر شوکت نواز میر نے کہا کہ پہلے صورتحال کا جائزہ لیا جائے، ریکی کی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ کتنے اہلکار موجود ہیں، ان کی پوزیشن کیا ہے اور سول کپڑوں میں موجود افراد کس طرح تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پروگرام کا فیصلہ کیا جائے۔

شوکت نواز میر یہ کہتے ہوئے بھی سنائی دیتے ہیں کہ صورتحال کا انحصار اس بات پر ہے کہ ماحول کہاں اور کس طرح موجود ہے اور راولاکوٹ میں کس نوعیت کا ماحول بنتا ہے۔

ان کے مطابق اگر راولاکوٹ میں مطلوبہ ماحول بن جاتا ہے تو پھر معاملات آگے بڑھ سکتے ہیں، لیکن اگر وہاں ایسا ماحول پیدا نہیں ہوتا تو پھر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

editor

Related Articles