آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی اہم تجویز سامنے آئی ہے، جس کے تحت ماہانہ دو سے تین لاکھ روپے کمانے والے افراد کو واضح ریلیف ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے لیے مختلف تجاویز تیار کر لی ہیں، جن میں سب سے اہم تجویز یہ ہے کہ درمیانی آمدن رکھنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کے مجوزہ ٹیکس ریلیف پیکیج کے دائرہ کار کو محدود رکھنے پر زور دیا ہے اور اس بات پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے کہ وسیع پیمانے پر کاروباری شعبوں یا دیگر سیکٹرز کو بڑے ٹیکس ریلیف نہ دیے جائیں، اس موقف کے بعد حکومت نے اپنی توجہ زیادہ تر تنخواہ دار طبقے تک محدود کر دی ہے۔
فیڈرل ٹیکس ادارے نے مختلف تجاویز تیار کر کے وزیراعظم کو ارسال کی ہیں جن کا مقصد موجودہ ٹیکس نظام میں توازن پیدا کرنا اور کم و درمیانی آمدن والے افراد کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
ان تجاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ زیادہ تنخواہ لینے والے طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح اور سلیب میں بھی کچھ تبدیلیاں کی جائیں تاکہ مجموعی نظام زیادہ منصفانہ بنایا جا سکے۔
اس مجوزہ ریلیف سے ملک کے تقریباً پانچ لاکھ پچاس ہزار رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان براہ راست فائدہ اٹھا سکیں گے، حکومت کی کوشش ہے کہ تنخواہ دار طبقے کو مہنگائی کے دباؤ سے کچھ حد تک ریلیف فراہم کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ کی ٹیم دس جون سے پہلے ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو اعتماد میں لے گی، جس کے بعد حتمی منظوری مذاکرات کے اختتام پر مشروط طور پر دی جائے گی، حتمی فیصلہ آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے، جس سے واضح ہو گا کہ تنخواہ دار طبقے کو کتنا ریلیف مل سکے گا۔