پاسپورٹ بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے، کیونکہ پاسپورٹ فیسوں کی ادائیگی کے لیے جدید ڈیجیٹل اور کیش لیس نظام متعارف کرانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو مزید آسان اور تیز سہولت میسر آئے گی۔
تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس محمد علی رندھاوا کی ایک نجی بینک کے وفد سے ملاقات ہوئی، جس میں پاسپورٹ فیسوں کی ادائیگی کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام کی فراہمی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں امیگریشن اور پاسپورٹس کے شعبے میں کیش لیس ادائیگیوں کے جدید نظام کی تیاری پر اتفاق کیا گیا، جس کے بعد شہری موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے پاسپورٹ اور امیگریشن فیس آسانی سے ادا کر سکیں گے۔
محمد علی رندھاوا نے اس موقع پر کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے سروس ڈیلیوری کا عمل نہ صرف تیز ہوگا بلکہ مزید شفاف بھی بنایا جا سکے گا۔ذرائع کے مطابق نجی بینک اور امیگریشن حکام کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگیوں کے میکانزم پر بھی اتفاق ہو گیا ہے جبکہ کیش لیس پاکستان کے ہدف کے حصول کے لیے مختلف اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی پاسپورٹ ریاست پاکستان کے شہریوں کو بین الاقوامی سفر کے لیے جاری کیا جاتا ہے اور یہ دستاویز شہری کی شناخت اور پاکستانی شہریت کی تصدیق بھی کرتی ہے، پاسپورٹ کا اجرا ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی ذمہ داری ہے، جو وزارت داخلہ کے تحت کام کرتا ہے۔
عام طور پر شہریوں کو عام اور سرکاری پاسپورٹ جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ پاسپورٹ کی مدت پانچ یا دس سال ہوتی ہے،پندرہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے پانچ سالہ پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے۔
مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کو زیادہ محفوظ اور جدید تصور کیا جاتا ہے، جبکہ پاسپورٹ کے لیے درخواست آن لائن یا متعلقہ دفاتر کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔