عوام کے ساتھ بڑا ہاتھ، پیٹرول سستا کیوں نہیں ہو رہا؟ اہم سرکاری دستاویز میں حقیقت بے نقاب

عوام کے ساتھ بڑا ہاتھ، پیٹرول سستا کیوں نہیں ہو رہا؟ اہم سرکاری دستاویز میں حقیقت بے نقاب

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے دعووں کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا حکومتی دعویٰ ادھورا رہ گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سرکاری دستاویزات نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ پیٹرول کی اصل قیمت کم ہونے کے باوجود حکومت پیٹرولیم لیوی اور مختلف مارجنز کی مد میں عوام کی جیبوں پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے، جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں قیمتیں گرنے کا پورا فائدہ عام آدمی تک نہیں پہنچ پا رہا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آفیشل دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت ایک لیٹر پیٹرول کی اصل ایکس ریفائنری قیمت (ریفائنری سے نکلنے والی لاگت) صرف 235 روپے 37 پیسے بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کا پیٹرول قیمت کم کرکے لیوی میں 24 روپے فی لیٹر کا بھاری اضافہ

تاہم تمام تر ٹیکسز، لیوی اور کمپنیوں کے منافع شامل کرنے کے بعد ملک میں صارفین کے لیے پیٹرول کی حتمی قیمت 377 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس طرح حکومت اور تیل کمپنیاں عوام سے فی لیٹر پیٹرول پر اصل قیمت سے کہیں زیادہ وصولیاں کر رہی ہیں۔

دستاویزات کے اعداو و شمار واضح کرتے ہیں کہ ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 142 روپے 41 پیسے کی پٹرولیم لیوی اور مختلف مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے پیٹرول کی قیمت کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر رکھا ہے۔

بریک ڈاؤن کے مطابق حکومت صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 116 روپے 08 پیسے فی لیٹر وصول کر رہی ہے، جبکہ ماحولیاتی تحفظ کے نام پر لگائی گئی ’کلائمیٹ سپورٹ لیوی‘ کی مد میں بھی 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر الگ سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ ان بھاری ٹیکسوں کے باعث عوام کو وہ ریلیف نہیں مل سکا جس کے وہ حقدار تھے۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسیشن

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسیشن کا ڈھانچہ ہمیشہ سے متنازع رہا ہے۔ ماضی میں حکومتیں پیٹرول پر سیلز ٹیکس وصول کرتی تھیں، لیکن عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدوں اور بیل آؤٹ پیکیجز کی سخت شرائط کے تحت، حکومت نے سیلز ٹیکس کو تو صفر کر دیا مگر اس کی جگہ پٹرولیم لیوی کی حد کو بتدریج بڑھا کر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا۔

حکومت کے لیے پیٹرولیم لیوی آمدنی کا ایک ایسا آسان ذریعہ بن چکا ہے جو براہِ راست وفاق کے پاس جاتا ہے اور اسے صوبوں کے ساتھ شیئر بھی نہیں کرنا پڑتا۔

مزید پڑھیں:امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان پیٹرولیم اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت پہنچ گئے

یہی وجہ ہے کہ جب بھی عالمی مارکیٹ میں خام تیل سستا ہوتا ہے، حکومت قیمتیں کم کرنے کے بجائے اپنا ریونیو ہدف پورا کرنے کے لیے لیوی کی شرح برقرار رکھتی ہے یا اس میں مزید اضافہ کر دیتی ہے۔

 کلائمیٹ سپورٹ لیوی کا حالیہ نفاذ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا بتایا جاتا ہے، مگر اس کا پورا بوجھ بھی غریب عوام ہی اٹھا رہے ہیں۔

اگر اس ٹیکس ڈھانچے کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ ملکی معیشت اور عام عوام کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے

مہنگائی کا لامتناہی چکر

 پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 235 روپے 37 پیسے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ٹرانسپورٹیشن اور مال برداری کی لاگت بہت کم ہونی چاہیے تھی۔ لیکن جب صارف کو یہی پیٹرول 377 روپے 78 پیسے میں ملتا ہے، تو مال برداری کے کرائے بڑھ جاتے ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر سبزیوں، پھلوں اور روزمرہ کی اشیائے خوردونوش پر پڑتا ہے، جس سے ملک میں مہنگائی کا گراف نیچے نہیں آپاتا۔

معاشی ناانصافی (ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن)

ایک لیٹر پر 142 روپے 41 پیسے کا ٹیکس اور مارجن یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا مالیاتی نظام براہِ راست ٹیکس (انکم ٹیکس) جمع کرنے میں ناکام ہے اور حکومت اپنی نااہلی کا بوجھ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کے ذریعے غریب اور امیر پر برابر ڈال رہی ہے۔ ایک موٹر سائیکل چلانے والا غریب اوسطاً وہی لیوی دے رہا ہے جو ایک بڑی گاڑی والا امیر شخص دے رہا ہے۔

صنعتی پیداوار میں رکاوٹ

صنعتی شعبہ اور کاروباری طبقہ پہلے ہی مہنگی بجلی اور گیس کی وجہ سے پریشان ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل پر اتنے بھاری مارجنز اور لیوی کی وجہ سے مقامی مصنوعات کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کے باعث پاکستانی اشیا عالمی مارکیٹ میں دیگر ممالک کا مقابلہ نہیں کر پاتیں اور ملکی برآمدات کو نقصان پہنچتا ہے۔

Related Articles