کیا اس بار تنخواہ دار طبقے کو واقعی ریلیف ملے گا؟ مہنگائی، بڑھتے بلوں اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے لاکھوں ملازمین کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ حکومت نئے بجٹ میں بڑا ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے تاہم اس اہم فیصلے کا دارومدار اب آئی ایم ایف کی منظوری پر ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ اس دوران مختلف ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکیجز آئی ایم ایف کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں ، حکومت کی کوشش ہے کہ عوام اور کاروباری شعبے کو کچھ ریلیف دیا جائے جبکہ محصولات کے اہداف بھی برقرار رہیں۔
تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کی تجاویز
بجٹ تجاویز میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کے لیے انکم ٹیکس سلیب میں کمی کی سفارش شامل ہے، اس کے علاوہ سپر ٹیکس کی شرح میں 2 فیصد کمی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اسی طرح برآمدی شعبے پر عائد ایک فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس ختم کرنے کی سفارش بھی سامنے آئی ہے، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں بہتری آ سکتی ہے۔
پراپرٹی سیکٹر میں بھی ریلیف متوقع
حکومت پراپرٹی سیکٹر کے لیے بھی متعدد مراعات پر غور کر رہی ہے ، حکام کا خیال ہے کہ اس شعبے میں آسانیاں پیدا کرنے سے سرمایہ کاری بڑھے گی اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
ماہرین کے مطابق تعمیراتی صنعت میں بہتری کا اثر درجنوں دیگر شعبوں پر بھی پڑتا ہے، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
کن اشیا پر ٹیکس بڑھ سکتا ہے؟
جہاں ایک طرف ریلیف کی تجاویز زیر غور ہیں، وہیں بعض مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، ذرائع کے مطابق سولر پینلز، ہائبرڈ گاڑیوں اور 20 سے زائد دیگر اشیا پر جنرل سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کی عمومی شرح تک لانے کے معاملے پر آئی ایم ایف سے مشاورت جاری ہے۔
تاہم حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں پر کم شرح ٹیکس برقرار رکھنے کی درخواست بھی کی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ ماحول دوست ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی اہداف کے لیے ضروری ہے۔
ایف بی آر کے لیے بڑا چیلنج
دوسری جانب حکومت کو ٹیکس وصولیوں کے اہداف بھی درپیش ہیں، رواں مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ہدف 13 ہزار 428 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ آئندہ مالی سال میں اسے بڑھا کر 15 ہزار 264 ارب روپے تک لے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔
حکام کے مطابق اس بڑے ہدف کے حصول کے لیے حکومت اور آئی ایم ایف مختلف مالیاتی آپشنز پر تفصیلی مشاورت کر رہے ہیں۔ یہی مشاورت آنے والے بجٹ کی سمت کا تعین کرے گی۔
عوام کی توقعات
مہنگائی اور بڑھتے اخراجات کے باعث تنخواہ دار طبقہ کئی برسوں سے اضافی مالی دباؤ کا شکار ہے ، ایسے میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف کی خبر نے ملازمین میں امید پیدا کر دی ہے، اگر آئی ایم ایف ان تجاویز کی منظوری دے دیتا ہے تو لاکھوں افراد کی قابلِ استعمال آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا مثبت اثر معیشت پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔
اب تمام نظریں بجٹ اعلان اور آئی ایم ایف کے حتمی فیصلے پر مرکوز ہیں، جو یہ طے کرے گا کہ تنخواہ دار طبقے کو کتنا ریلیف ملتا ہے۔