پاکستان اور قطر سفارتی عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، ایران

پاکستان اور قطر سفارتی عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، ایران

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق معاہدے کے دعو ئوں پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت تک امریکا کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ معاہدے پر دستخط کی تاریخ اور مقام سے متعلق سامنے آنے والی خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی متن کا بڑا حصہ تیار ہو چکا ہے تاہم امریکا کی جانب سے اپنی پالیسی اور مؤقف میں بار بار تبدیلی کی وجہ سے حتمی پیش رفت متاثر ہو رہی ہے۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ قطر اور پاکستان اس پورے سفارتی عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کی کوششیں مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے بعض اقدامات سفارتی عمل کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس سے اعتماد سازی کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

ایرانی ترجمان کے مطابق ایران مذاکرات کے دوران اپنی بنیادی اور واضح ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور قومی مفادات کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔

 یہ  بھی پڑھیں ایران کے ساتھ بہت اچھا معاہدہ 2 سے 3 روز کے اندر طے پا جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں اور جلد اس پر دستخط متوقع ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے خیال میں ایرانی سپریم لیڈر معاہدے پر آمادہ ہیں اور انہوں نے اس کی منظوری بھی دے دی ہے۔

امریکی صدر کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہیں گی۔

دونوں فریقین کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم معاہدے کی حتمی حیثیت اور اس کی تفصیلات پر اب بھی ابہام برقرار ہے اور صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکی۔

editor

Related Articles