بھارتی افواج کو بڑا جھٹکا: محکمہ اطلاعات کی انتہائی خفیہ دستاویزات لیک ہوگئیں

بھارتی افواج کو بڑا جھٹکا: محکمہ اطلاعات کی انتہائی خفیہ دستاویزات لیک ہوگئیں

بھارتی افواج کے انفارمیشن ونگ (ڈی پی آر) میں ایک بڑے سیکیورٹی لیپس سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کا ایک مبینہ طور پر انتہائی خفیہ اور منظم نیٹ ورک بے نقاب ہو چکا ہے۔وزارتِ دفاع کے ماتحت کام کرنے والے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز (ڈی پی آر) سے متعلق حساس نوعیت کی معلومات پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آئی ہیں۔

ان تفصیلات کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارت کی اطلاعاتی حکمتِ عملی میں پاکستان کے حوالے سے “پہلے بیانیہ، بعد میں شواہد” کے طرزِ عمل کو ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ ان انکشافات کے بعد بھارتی وزارتِ دفاع کے اطلاعاتی و ابلاغی ڈھانچے اور اس کے مبینہ پروپیگنڈا نیٹ ورک کے کردار پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق یہ ادارہ بھارت کی اطلاعاتی اور بیانیہ سازی کی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون ہے، جو دفاعی بیانیوں کے کنٹرول، حکومتی مؤقف کی تشہیر اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر سیکیورٹی معاملات سے متعلق رائے عامہ کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

منظر عام پر آنے والی معلومات کے مطابق بھارت نے سرکاری مواصلاتی اداروں، فوجی اطلاعاتی ڈھانچوں، انٹیلی جنس تنظیموں، اسٹریٹجک تھنک ٹینکس اور میڈیا نیٹ ورکس پر مشتمل ایک مربوط نظام تشکیل دے رکھا ہے، جس کا مقصد بیانیہ سازی، اس کی تشہیر اور رائے عامہ پر اثرانداز ہونا ہے۔ اس نظام کے مرکز میں ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز موجود ہے، جو وزارتِ دفاع، مسلح افواج، دفاعی اداروں اور اسٹریٹجک تنصیبات کا مجاز مواصلاتی چینل تصور کیا جاتا ہے۔

محکمہ تعلقاتِ عامہ کا مرکزی دفتر نئی دہلی میں قائم ہے جبکہ بھارت بھر میں اس کے تقریباً 25 علاقائی دفاتر موجود ہیں۔ ادارے کے تحت بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے لیے علیحدہ عوامی تعلقات یونٹس بھی کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کیجانب سے بھارت کو بڑا جھٹکا، پینٹاگون نے ’انڈو پیسیفک کمانڈ‘ کا نام تبدیل کر دیا

رپورٹ کے مطابق ادارے کا قریبی رابطہ متعدد اسٹریٹجک تھنک ٹینکس، جن میں انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ اینالیسز، سینٹر فار ایئر پاور اسٹڈیز، سینٹر فار لینڈ وارفیئر اسٹڈیز اور نیشنل میری ٹائم فاؤنڈیشن شامل ہیں، سے ہے جو تحقیق، پالیسی مشاورت اور اسٹریٹجک معاونت فراہم کرتے ہیں۔

ادارے کی سربراہی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (اسٹریٹجک کمیونیکیشن) کرتے ہیں، جو بھارتی حکومت کے چیف دفاعی ترجمان بھی ہوتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ محکمہ تعلقاتِ عامہ میں میڈیا پروفیشنلز، ڈیجیٹل کمیونیکیشن ماہرین، تجزیہ کاروں اور انٹیلی جنس معاون عملے سمیت 10 ہزار سے زائد افراد کام کرتے ہیں۔

منظر عام پر آنے والی معلومات کے مطابق ادارے کا کردار محض معلومات کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ ایجنڈا سازی، بیانیہ تشکیل دینے اور اسٹریٹجک اثرورسوخ کے آپریشنز تک پھیلا ہوا ہے۔ ادارے کے نمایاں مقاصد میں مسلح افواج پر عوامی اعتماد کو مضبوط بنانا، حکومتی دفاعی پالیسیوں کو فروغ دینا، فوجی جدیدکاری کے منصوبوں کے لیے حمایت پیدا کرنا، علاقائی سلامتی میں بھارت کے کردار سے متعلق بین الاقوامی تاثر کو متاثر کرنا اور بحرانوں، سرحدی کشیدگی یا فوجی کارروائیوں کے دوران بیانیہ تشکیل دینا شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ڈرامے کی مقبولیت یا نقل؟ بھارتی سیریل پر تنقید بڑھ گئی

مالیاتی تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلقاتِ عامہ کو مواصلات، میڈیا انگیجمنٹ اور تشہیری سرگرمیوں کے لیے سالانہ تقریباً 2 ہزار 882 کروڑ بھارتی روپے فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ اطلاعاتی جنگ کے لیے مختلف خفیہ ذرائع سے تقریباً 6 ہزار 615 کروڑ بھارتی روپے مختص کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ دفاعی تھنک ٹینکس کو ملنے والے تخمینی 70 کروڑ روپے شامل کیے جائیں تو مجموعی بجٹ تقریباً 9 ہزار 558 کروڑ بھارتی روپے بنتا ہے۔

دستاویز کے مطابق محکمہ تعلقاتِ عامہ صحافیوں، ایڈیٹرز اور میڈیا اداروں کے ساتھ بریفنگز، میڈیا ٹورز اور ڈیفنس کورسپونڈنٹس کورسز کے ذریعے قریبی روابط برقرار رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں دفاعی رپورٹنگ سے وابستہ ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل پاتا ہے جو سرکاری ذرائع سے مسلسل منسلک رہتا ہے۔ قومی سلامتی کے بحرانوں کے دوران اسی نظام کے تحت سرکاری مؤقف سے ہم آہنگ میڈیا کوریج سامنے آتی ہے جبکہ تنقیدی یا متبادل آراء کو محدود جگہ ملتی ہے۔

رپورٹ میں را اور محکمہ تعلقاتِ عامہ کے درمیان ایک مربوط اطلاعاتی نظام کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے مطابق ریسرچ اینڈ اینالیسز وِنگ (را) علاقائی صورتحال اور مخالفین سے متعلق معلومات اکٹھی کرتی ہے، جنہیں بعد ازاں محکمہ تعلقاتِ عامہ عوامی بیانیے کی شکل دے کر میڈیا تک پہنچاتا ہے۔ یہ بیانیے قومی ٹی وی نیٹ ورکس، ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارمز، دفاعی تجزیہ کاروں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور اسٹریٹجک تھنک ٹینکس کے ذریعے وسیع پیمانے پر پھیلائے جاتے ہیں، جس سے مختلف پلیٹ فارمز پر یکساں پیغام رسانی ممکن بنتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی اسٹریٹجک تھنک ٹینکس اس اطلاعاتی ڈھانچے کی فکری سطح تشکیل دیتے ہیں۔ یہ ادارے پالیسی پیپرز، تبصروں اور اسٹریٹجک تجزیوں کے ذریعے ریاستی بیانیوں کو تقویت دیتے ہیں۔ اگرچہ انہیں آزاد تحقیقی اداروں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تاہم ان کے حکومتی اداروں، فوجی تنصیبات اور پالیسی حلقوں سے قریبی روابط بتائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان رجیم کی عسکریت پسندی اور انڈیا اسرائیل گٹھ جوڑ خطے کے استحکام کیلئے بڑا خطرہ بن گیا

دستاویزات کے مطابق بھارت کی اطلاعاتی حکمتِ عملی میں ’’پہلے بیانیہ، بعد میں شواہد‘‘ کا رجحان بڑھ رہا ہے، جہاں اہم سیکیورٹی واقعات کے فوراً بعد سرکاری مؤقف اور الزامات کو وسیع پیمانے پر پھیلایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں پلوامہ۔بالاکوٹ (2019)، آرٹیکل 370 (2019)، کسان احتجاج (2020 تا 2021)، سرینگر میں جی 20 اجلاس (2023)، جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ (2025) اور پہلگام حملہ (2025) کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جہاں مربوط پیغام رسانی کے ذریعے سرکاری مؤقف کو نمایاں کیا گیا۔

رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ محکمہ تعلقاتِ عامہ بھارت کے اطلاعاتی جنگی ڈھانچے کا ایک اہم جزو ہے، جو انٹیلی جنس اداروں، میڈیا، تھنک ٹینکس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر ایسے بیانیوں کو فروغ دیتا ہے جو بھارت کے سیاسی اور سیکیورٹی مفادات کی حمایت کرتے ہیں۔ کشمیر، بلوچستان، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) اور پلوامہ۔بالاکوٹ جیسے معاملات کو بیانیہ سازی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی مثالوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس طرز کے اطلاعاتی ڈھانچے کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاستی سطح پر اسٹریٹجک کمیونیکیشن، اطلاعاتی جنگی صلاحیتوں، بیانیہ جاتی استحکام اور فعال بین الاقوامی رابطوں کی ضرورت ہے۔

Related Articles