طبی ماہرین اور سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی بوسٹر ویکسینز سے متعلق ایک اہم اور حیران کن انکشاف کیا ہے جس کے مطابق یہ ویکسین نہ صرف موجودہ وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہیں بلکہ مستقبل میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی ممکنہ عالمی وباؤں کے خلاف بھی مدافعت پیدا کر سکتی ہیں۔
کیمبرج یونیورسٹی کی نئی تحقیق
برطانیہ کی معروف کیمبرج یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا کی بوسٹر ویکسینز انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو اس حد تک مضبوط بنا دیتی ہیں کہ وہ مختلف اقسام کے کورونا وائرسز کے خلاف بھی مؤثر ردعمل ظاہر کرتا ہے جن میں وہ وائرس بھی شامل ہیں جو ابھی تک انسانوں میں منتقل نہیں ہوئے۔
معمر افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ
یہ تحقیق ایک سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے اور اس نے طبی دنیا میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ تحقیق میں کیمبرج انسٹی ٹیوٹ آف تھیراپیوٹک امیونولوجی اینڈ انفیکشس ڈیزیز کے سائنسدانوں نے ایسے معمر افراد کے خون کے نمونے حاصل کیے جن کی اوسط عمر 69 سال تھی اور جنہیں کورونا ویکسین کی چار خوراکیں بشمول جدید بائی ویلنٹ بوسٹر دی جا چکی تھیں۔
سائنسدانوں نے ان خون کے نمونوں میں موجود اینٹی باڈیز کا مختلف وائرسز کے خلاف تجزیہ کیا جن میں 2003 کا سارس وائرس اور چمگادڑوں اور پینگولین میں پائے جانے والے کورونا وائرسز بھی شامل تھے جو مستقبل میں انسانوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
ویکسین سے مضبوط مدافعتی ردعمل
تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ بوسٹر ویکسین سے پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز نے ان جانوروں سے منسلک وائرسز کے خلاف بھی مضبوط مدافعت ظاہر کی اور انہیں انسانی خلیات میں داخل ہونے سے روکنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔
مستقبل کی وباؤں کے خلاف امید
ماہرین کے مطابق یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل میں اگر کوئی نیا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو انسانی جسم پہلے سے ہی کسی حد تک اس کے خلاف مدافعت رکھ سکتا ہے جس سے نئی مخصوص ویکسین تیار کرنے کے لیے قیمتی وقت حاصل ہو سکے گا۔
معمر افراد کے لیے اہم پیش رفت
کیمبرج یونیورسٹی کی محققہ کا کہنا ہے کہ یہ نتائج خاص طور پر معمر اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ یہ ویکسین مستقبل کی وباؤں کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی ڈھال ثابت ہو سکتی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب تک دنیا بھر میں کورونا ویکسین کی 13 ارب سے زائد خوراکیں دی جا چکی ہیں، جو اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کر چکی ہیں۔