پنجاب حکومت نے سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ کے منصوبے کو مزید وسعت دیتے ہوئے تیسرے مرحلے میں 2,682 مزید سرکاری سکول نجی شعبے کے حوالے کر دیے ہیں۔
اس اقدام کے بعد صوبے بھر میں آؤٹ سورس کیے گئے سرکاری سکولوں کی مجموعی تعداد تقریباً 13 ہزار ہو گئی ہے، جبکہ نئے مرحلے کے تحت ان سکولوں میں باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز 23 اگست سے ہوگا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ایسے سرکاری سکولوں کی کارکردگی بہتر بنانا ہے جہاں طلبہ کی تعداد کم یا تعلیمی نتائج تسلی بخش نہیں تھے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت سے تعلیمی معیار میں بہتری، طلبہ کے داخلوں میں اضافہ اور سکولوں کے انتظامی امور کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے گا۔
تیسرے فیز میں لاہور کے 42 سرکاری سکول بھی ٹھیکے میں شامل کیے گئے ہیں ، سکولوں کی تقسیم کے لیے مخصوص کوٹہ مقرر کیا گیا، جس کے تحت 40 فیصد حصہ غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) جبکہ 35 فیصد حصہ انٹرپرینیورز کے لیے مختص تھا، باقی سکول دیگر اہل درخواست گزاروں کو قواعد و ضوابط کے مطابق دیے گئے۔
دوسری جانب پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) نے ان اداروں کے لیے اپیل کا موقع بھی فراہم کیا ہے جو اس مرحلے میں سکول حاصل نہیں کر سکے، ایسے ادارے 10 جولائی تک اپنی اپیل جمع کرا سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے 20 ہزار روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ مقررہ آخری تاریخ کے بعد موصول ہونے والی کسی بھی درخواست یا اپیل پر غور نہیں کیا جائے گا۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ آؤٹ سورسنگ پالیسی کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نجی ادارے سکولوں میں تدریسی معیار، اساتذہ کی کارکردگی اور طلبہ کی سہولیات میں کس حد تک بہتری لا پاتے ہیں۔ دوسری جانب اساتذہ اور والدین کی جانب سے بھی اس منصوبے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث اس کی کامیابی پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔