بلوچستان میں بدامنی پھیلانے والے ملک دشمن عناصر کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
ضلع چاغی میں فتنہ الہندوستان کے مسلح دہشتگردوں نے ایم سی بی بینک پر دھاوا بول کر لوٹ مار کرنے کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے انتہائی مربوط اور مؤثر ردِعمل نے اس مذموم کارروائی کو زمین بوس کر دیا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق جدید ہتھیاروں سے لیس دہشتگردوں نے بینک کو نشانہ بنانے اور بھاری مالیاتی نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، لیکن الرٹ فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پوزیشنز سنبھال لیں اور دہشتگردوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔
واقعے کے فوری بعد مفرور شرپسندوں کی گرفتاری کے لیے سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو سیل کر کے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائی جاری رہے گی۔
عام شہریوں کے امن، معیشت اور اعتماد پر حملہ
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کی جانب سے بینک لوٹنے کی یہ کوشش محض ایک مالی جرم یا عام ڈکیتی نہیں تھی، بلکہ یہ چاغی کے عام شہریوں کے امن، روزگار اور ریاستی اداروں پر ان کے اعتماد پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حملہ تھا۔
ایسے ملک دشمن عناصر کا بنیادی مقصد صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو روکنا اور کاروباری طبقے میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔
ان بزدلانہ اقدامات کا سب سے بڑا اور براہِ راست نقصان بلوچستان کے عام شہریوں، غریب مزدوروں، تاجروں اور روزانہ کی بنیاد پر روزگار کمانے والے دیہاڑی دار طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
بینکوں اور معاشی مراکز پر حملے کر کے یہ عناصر مقامی کاروبار اور بلوچستان کے ابھرتے ہوئے امن و استحکام کو براہِ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔
امن کا دشمن، بلوچستان کا دشمن، عوامی مفاد کی حفاظت کا عزم
ترجمان سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان کے غیور عوام کو اب خوف، بھتہ خوری، لوٹ مار اور تشدد کی سیاست نہیں بلکہ صرف اور صرف امن، ترقی، معیاری تعلیم اور معاشی استحکام چاہیے۔
پاکستان کے خلاف کام کرنے والے دہشتگرد نیٹ ورکس خطے میں خوش حالی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
حکام نے مزید زور دیا کہ عوام کی محنت کی کمائی اور ملکی اثاثوں پر کوئی بھی حملہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
ایسے جرائم کی روک تھام اور خطے سے دہشتگردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مقامی آبادی کا تعاون اور یکجہتی ہی اصل عوامی مفاد میں ہے، کیونکہ جو امن کا دشمن ہے، وہی درحقیقت بلوچستان کا دشمن ہے۔
ضلع چاغی رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا ضلع ہے اور پاک افغان و پاک ایران سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے اسٹریٹجک طور پر انتہائی حساس مانا جاتا ہے۔
فتنہ الہندوستان اور دیگر کالعدم تنظیمیں طویل عرصے سے غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے بلوچستان میں معاشی اور ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ماضی میں بھی سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معاشی مراکز پر حملوں کے تانے بانے سرحد پار بیٹھے ماسٹر مائنڈز سے ملتے رہے ہیں۔
ایسے حالات میں بینکوں یا مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانا ان تنظیموں کی مالیاتی تنگی اور بھتہ خوری کے نیٹ ورک کی ناکامی کو بھی ظاہر کرتا ہے، جس کے لیے وہ اب براہِ راست لوٹ مار پر اتر آئے ہیں۔