چیک باؤنس کیس میں راجپال یادو کو قید کی سزا،عدالت کا فیصلہ سامنے آگیا

چیک باؤنس کیس میں راجپال یادو کو قید کی سزا،عدالت کا فیصلہ سامنے آگیا

بالی ووڈ کے معروف مزاحیہ اداکار راجپال یادو کو چیک باؤنس کیس میں بڑا قانونی دھچکا لگ گیا، جہاں دہلی ہائی کورٹ نے ان کی سزا برقرار رکھتے ہوئے قید اور بھاری مالی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے راجپال یادو کو چیک باؤنس سے متعلق سات مختلف مقدمات میں ہر کیس کے لیے3، 3 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت کے مطابق یہ تمام سزائیں بیک وقت چلیں گی۔

عدالت نے اداکار کو فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے2 ماہ کی مہلت بھی دی ہے۔ جسٹس سورنا کانتا شرما نے اپنے فیصلے میں راجپال یادو کو ہر مقدمے میں شکایت کنندہ کو ایک کروڑ چار لاکھ روپے جبکہ بطور جرمانہ ریاست کو 25 ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں:عامر خان نے 18 کلو وزن کیسے کم کیا؟ مائیگرین سے نجات کا راز بھی بتا دیا

دوسری جانب اداکار کی اہلیہ رادھا یادو کو بھی ہر کیس میں شکایت کنندہ کو 5 لاکھ 51 ہزار روپے ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ راجپال یادو کی جانب سے پہلے ہی جمع کرائے گئے 2 کروڑ 25 لاکھ روپے حتمی واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کیے جائیں گے۔

دہلی ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران راجپال یادو کے مجموعی رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا میں نرمی دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے انہیں ٹرائل کورٹ کی جانب سے عائد جرمانہ ادا کرنے کی ہدایت بھی کی اور خبردار کیا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں مزید 6ماہ قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حمزہ حبیب نے سالگرہ پر اہلیہ مومنہ اقبال سے کیاکہا؟تفصیلات سامنےآگئیں

یہ معاملہ 2010 کا ہے، جب راجپال یادو نے اپنی فلم ’’اتا پتا لاپتا‘‘ کی تیاری کے لیے مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے 5 کروڑ روپے قرض حاصل کیا تھا۔

فلم باکس آفس پر ناکام رہی، جس کے بعد قرض کی واپسی کا تنازع قانونی شکل اختیار کر گیا۔ 2018 میں ٹرائل کورٹ نے راجپال یادو کو چیک باؤنس کے جرم میں6 ماہ قید کی سزا سنائی تھی، جس کی 2019 میں بھی توثیق کی گئی۔ بعد ازاں سود اور دیگر واجبات کے باعث ادا کی جانے والی رقم بڑھ کر تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں :برطانوی پاپ گلوکارہ بونی ٹائلر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

عدالت نے اس سے قبل تصفیے کی یقین دہانی پر ان کی سزا معطل کر دی تھی، تاہم راجپال یادو مقررہ ادائیگیاں نہ کر سکے، جن میں 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ایک قسط بھی شامل تھی۔

فروری 2026 میں عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث دہلی ہائی کورٹ نے انہیں سرنڈر کرنے کا حکم دیا تھا۔ راجپال یادو نے 5 فروری کو خود کو عدالت کے سامنے پیش کیا اور بعد ازاں ڈیڑھ کروڑ روپے جمع کرانے کے بعد انہیں عبوری ریلیف حاصل ہوا۔

editor

Related Articles